پیر‬‮ ، 20 اپریل‬‮ 2026 

طلعت محمود کو مداحوں سے بچھڑے 21 برس بیت گئے

datetime 9  مئی‬‮  2019 |

ممبئی(این این آئی)اے میرے دل کہیں اور چل جیسے متعدد گیتوں کو اپنی آواز سے لازوال بنا دینے والے برصغیر کے لیجنڈ گلوکار و اداکارطلعت محمود کو مداحوں سے بچھڑے 21 برس بیت گئے۔اپنے آپ کو آوارہ بادل کہنے والے طلعت محمود 1924 میں لکھنو میں پیدا ہوئے۔

انہوں نے مرزا غالب، داغ اور جگر کی غزلوں کو اپنی آواز دی جس کے بعد برصغیر میں غزل گائیکی کے نئے دور کا آغاز ہوا۔طلعت محمود کی آواز کو درد اور کرب کا ترجمان کہا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ انکی گائیکی میں غم کی تصویر جھلکتی ہے۔دیس بدیس کے بنجارے طلعت نے بنگالی، گجراتی، سندھی اور پنجابی سمیت تیرہ زبانوں میں آٹھ سو سے زائد گیت گائے مگر راجندر کے لکھے اور سلیل چوہدری کے موسیقی ترتیب دیئے ہوئے گانے اتنا نہ مجھ سے پیار بڑھانے طلعت محمود کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔اپنی فلمی زندگی میں طلعت محمود نے سب سے زیادہ گانے دلیپ کمار کی فلموں کے لیے ہی گائے: جیسے شامِ غم کی قسم یا حسن والوں کو، اور یہ ہوا یہ رات یہ چاندنی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔طلعت محمود نے گلوکاری کے علاوہ فلموں میں بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے، انہیں اپنی بے مثال گائیکی پر فلم فئیر اور پدما بھوشن ایوارڈ سے نوازا گیا۔9مئی 1998 کو ممبئی میں طلعت محمود کا انتقال ہوا، تاہم آج بھی ان کی غزلیں ایک خاص کیفیت پیدا کردیتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم(دوسرا حصہ)


حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…