اتوار‬‮ ، 18 جنوری‬‮ 2026 

شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال کراچی کی فنڈنگ کیلئے اداکار شہریار منور اور مایا علی میدان میں آگئے

datetime 30  مارچ‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی) پاکستان میں غریبوں کیلئے مفت کینسر کا علاج فراہم کرنیوالے شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال کراچی کی فنڈنگ کیلئے معروف اداکار شہریار منور اور اداکارہ مایا علی میدان میں آگئے ہیں جوکہ مختلف ممالک میں جا کر فنڈ جمع کریں گے۔وزیراعظم عمران خان کی کاوشوں سے

قائم ہونیوالا شوکت خانم میوریل کینسر ہسپتال اور تحقیقی ادارہ پاکستان میں غریبوں کیلئے مفت کینسر کا علاج کرنیوالا سب سے بڑا ہسپتال ہے جوکہ ایک مستند خیراتی ادارہ سمجھا جاتا ہے۔ 1994 میں قائم ہونے والا یہ ادارہ اب تک کینسر میں مبتلا لاکھوں غریب لوگوں کا مفت علاج کر چکا ہے۔ادارے کی مالی امداد کیلئے عمران خان ابتداء سے اب تک فنڈ ریزنگ بھی کرتے رہیں ہیں جبکہ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس ادارے کی بنیاد رکھنے سے قبل چندہ جمع کرنے کیلئے عالمی شہرت یافتہ گلوکار استاد نصرت فتح علی خان ،بالی ووڈ لیجنڈ اداکار امیتابھ بچن اور ہالی ووڈ اداکار میک جیگر جیسی مقبول ترین شخصیات بھی ہسپتال کیلئے تقریبات میں شریک ہو چکے ہیں۔شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال لاہور کی کامیابی کے بعد دوسرا ہسپتال پشاور میں بھی قائم کیا گیا اور اب کراچی میں بھی قائم کیا جارہا ہے جس کو عملی جامہ پہنانے کیلئے شوبز اداکار میدان میں آگئے ہیں۔معروف اداکارہ مایا علی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹا گرام پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ میں خوش دلی سی یہ بات بتا رہی ہوں کہ میں شوکت خانم کینسر ہسپتال کراچی کیلئے فرانس ،سوئیڈن اور ناروے جارہی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں کینسر جیسے اس موذی مرض کو بہت قریب سے دیکھ چکی ہوں اس لئے میں اْن لوگوں کا درد محسوس کر سکتی ہوں جو اس مرض کا شکار ہیں۔مایا نے کہا کہ ہم تیسرے شوکت خانم کینسر ہسپتال کی کراچی میں بنیاد رکھنے جا رہے ہیں جس کیلئے ہمیں آپ لوگوں کے تعاون کی ضرورت ہے۔دوسری جانب اداکارہ شہریار منور صدیقی نے بھی ویڈیو کے ذریعے پیغام دیا کہ میں بھی اپریل میں شوکت خانم کراچی ہسپتال کے لئے فرانس ،سوئیڈن اور ناروے جارہا ہوں اور اس ہسپتال کیلئے فنڈ جمع کرنا میرے دل کے بہت ہی قریب ترین عمل ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…