اتوار‬‮ ، 18 جنوری‬‮ 2026 

اقوام متحدہ نے فیشن انڈسٹری کو ماحولیاتی تباہی کادوسرا بڑا سبب قراردیدیا

datetime 27  مارچ‬‮  2019 |

نیویارک(این این آئی)اقوام متحدہ (یو این) نے دنیا میں ماحولیاتی تباہی کا دوسرا بڑا سبب فیشن انڈسٹری کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فیشن انڈسٹری میں سالانہ تقریباً 93 ارب کیوبک میٹر پانی استعمال ہوتا ہے اور اس میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔یواین کے ٹریڈ اینڈ ڈیولپمنٹ (یو این سی ٹی اے ڈی) کے تحت منعقدہ کانفرنس میں انکشاف کیا گیا کہ یک جینز کی تیاری میں مجموعی طور پر 7 ہزار 500 لیٹر پانی درکار ہوتا ہے۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ ’فیشن انڈسٹری میں سالانہ تقریباً 93 ارب کیوبک میٹر پانی استعمال ہوتا ہے جو کہ 50 لاکھ لوگوں کی بنیادی ضرورت پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔کانفرنس کے شرکا نے فیشن انڈسٹری کے بزنس ماڈل کو تنقید کا نشانہ بنایا۔انہوں نے کہا کہ ’فاسٹ فیشن‘ کے تحت صارفین کو استعمال شدہ کپڑوں کو فوری تلف کرنے اور کم قیمت پر نت نئے ڈیزائن کے کپڑے خریدنے کے رحجان سے ماحولیاتی بربادی میں اضافہ ہورہا ہے۔ماہرین نے انکشاف کیا کہ ملبوسات کی تیاری کے دوران فیشن انڈسٹری سے منسلک مشینوں سے جو کاربن خارج ہوتا ہے وہ مجموعی طور پر تمام بین الاقوامی پروازوں اور میری ٹائم شپنگ سے خارج ہونے والے کاربن کے برابر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’فیشن انڈسٹری سے خارج ہونے والا سالانہ 5 لاکھ ٹن مائیکروفائبر سمندر کی نذر کر دیا جاتا ہے۔ماحولیاتی ماہرین نے کہا کہ 2000 سے 2014 کے درمیانی عرصے میں کپڑوں کی پیداوار میں سو گنا اضافہ ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ فیشن انڈسٹری دنیا بھر میں خارج ہونے والی زہریلی گیس میں 8 فیصد حصہ فیشن انڈسٹری کا ہے جس کا سبب انڈسٹری میں تیار ہونے والے کپڑے اور جوتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ’فیشن انڈسٹری اپنے کارخانوں کو رواں دواں رکھنے کے لیے کوئلہ اور قدرتی گیس پر انحصار کرتے ہیں۔ماہرین نے خبردار کیا کہ اگر فیشن انڈسٹری کی جانب سے فاسٹ فیشن کا رویہ اسی رفتار سے جاری رہا تو 2030ء میں زہریلی گیس کا اخراج 8 فیصد سے بڑھ کر 50 فیصد ہو جائے گا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…