بدھ‬‮ ، 04 مارچ‬‮ 2026 

عاشر عظیم بھی ’’عورت مارچ‘‘ پر خاموش نہ رہ سکے،ایسی عزت کا فائدہ ہی کیا جو مانگ کر لی جائے، مصنف واداکار

datetime 22  مارچ‬‮  2019 |

اوٹاوا(این این آئی) معروف مصنف و اداکار عاشر عظیم کا کہنا ہے کہ مرد ایک جنس نہیں بلکہ طاقت کا اور کسی کمزور کا خیال رکھنے کا ایک رویہ ہے ۔عاشر عظیم نے یوٹیوب پر اپنی ایک ویڈیو جاری کی جس میں انہوں نے حال ہی میں ہونے والے عورت مارچ کے حوالے سے

رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مرد ایک جنس ہے تو میرے نزدیک یہ بات غلط ہے کیوں کہ مرد ایک جنس نہیں بلکہ ایک رویے کا نام ہے ہے اور یہ رویہ ہے طاقت کا اور کسی کمزور کا خیال رکھنے کا، یہ رویہ آپ کے عمل سے نظر آنا چاہیے۔عاشر عظیم نے خواتین کے مظاہرے میں شامل متنازع پلے کارڈز اور مطالبوں پر کہا کہ عزت مانگنے کی چیز نہیں ہے، اْس عزت کا فائدہ ہی کیا جو مانگ کر لی جائے، میرے خیال میں قندیل بلوچ ایک مرد تھی اور اسے جس نے مارا وہ مرد نہیں تھا کیوں کہ قندیل دنیا میں جو کچھ بھی کرتی تھی وہ اپنے گھر والوں کا پیٹ پالنے کے لیے کرتی تھی۔دھواں ڈرامے کے اداکار کا کہنا ہے کہ اگر کوئی مرد دیکھنا ہے تو کسی کے گھر کے سربراہ کی جنس نہ دیکھیں بلکہ آپ یہ دیکھیں کہ گھر کے باقی لوگ کتنے محفوظ ہیں اور جو لوگ نشے کی لت کی وجہ سے سارا دن پڑے رہتے ہیں اور ان کی بیویاں کام کرتی ہیں تو اْس گھر میں مرد کون ہے؟ یہاں سمجھنے کی بات ہے کہ مرد کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اختتام کا آغاز


’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…