پیر‬‮ ، 26 جنوری‬‮ 2026 

معروف پاکستانی گلو کار عاطف اسلم مرسڈیز نہ چلنے پر رکشہ چلانے پر مجبور

datetime 8  فروری‬‮  2019 |

بنکاک (این این آئی)نامور پاکستانی گلوکار عاطف اسلم اس وقت بینکاک میں موجود ہیں، جہاں وہ گاڑی کے بجائے رکشہ چلانے پر مجبور ہوگئے۔پاکستان کے سب سے کامیاب گلوکار مہنگی ترین گاڑی مرسڈیز میں بیٹھے تو ضرور تاہم اس میں سفر کرنے میں ناکام رہے، کیوں کہ یہ گاڑی کسی خرابی کے باعث چل ہی نہیں پائی۔جس کے بعد گلوکار کو کوئی دوسری گاڑی بھی نہیں ملی اور وہ رکشے میں بیٹھنے پر مجبور ہوگئے۔

لیکن اس موقع پر بھی انہیں شرمندگی کا سامنا ہی کرنا پڑا، کیوں کہ ان کے پاس اس رکشے کی چابی تک نہیں تھی۔اس واقعے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، لیکن اس سے قبل کے آپ سنجیدہ ہوں ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ یہ عاطف اسلم کا مداحوں سے کیا جانے والا ایک مذاق تھا۔عاطف اسلم نے خود بھی اس ویڈیو کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر شیئر کیا۔ویڈیو میں عاطف اسلم مرسڈیز سے اتر کر رکشہ میں بیٹھ گئے، تاہم انہوں نے چن اسے چلانا چاہا تو رکشے میں چابی موجود نہیں تھی۔جس کے بعد عاطف اسلم نے اپنے دوست سے رکشے کی چابی مانگتے ہوئے کہا کہ ’چابی تو دے‘، تاہم اس موقع پر بھی انہیں شرمندگی کا سامنا ہوا کیوں کہ یہ رکشہ ’ٹک ٹک‘ تھا جسے بینکاک کی روایتی سواری کہا جاتا ہے۔ٹک ٹاک کو چلانے کے لیے چابی کی ضرورت نہیں بلکہ یہ آٹومیٹک طریقے سے اسٹارٹ ہوتی ہے۔واضح رہے کہ عاطف اسلم گلوکاری کے ساتھ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بھی فعال رہتے ہیں تاکہ وہ مداحوں کے ساتھ رابطے میں رہیں۔حال ہی میں عاطف اسلم کا گانا ’12 بجے‘ بھی سامنے آیا تھا، جسے انٹرنیٹ پر خوب پسند کیا گیا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا (سوم)


مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…