بالی ووڈ انڈسٹری میں خواتین سے دہرا معیار:دیامرزا بھی بول پڑی

  ہفتہ‬‮ 14 جولائی‬‮ 2018  |  10:25

ممبئی (شوبز ڈیسک) 36 سالہ اداکارہ دیا مرزا نے بولی وڈ انڈسٹری میں خواتین کے ساتھ دہرے معیار برتنے اور انہیں مردوں کے برابر حیثیت نہ دیے جانے پر خاموشی توڑی ہے۔ممبئی مرر سے خصوصی بات کرتے ہوئے 36 سالہ اداکارہ نے بتایا کہ وہ جان بوجھ کر ایک منصوبے اور فیصلے کے تحت گزشتہ کئی سال سے فلم انڈسٹری سے دور رہی۔اداکارہ کا کہنا تھا کہ بولی وڈ میں اداکاراؤں کے لیے بہترین اور جاندار کردار نہیں ہوتے۔ اور اسی وجہ سے ہی انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اب منتخب فلموں میں ہی کام کریں گی۔دیا مرزا کے مطابق


منتخب فلموں میں کام کرنے کے فیصلے کا مطلب یہ تھا کہ اب وہ فلموں میں کم دکھائی دیں گی اور یہی وجہ تھی کہ وہ کئی عرصے تک فلموں میں نظر نہ آئیں۔36 سالہ اداکارہ نے فلم انڈسٹری میں خواتین کی حیثیت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بولی وڈ میں خاص عمر کے بعد اداکاراؤں کو اچھے کردار نہیں ملتے، جب کہ شادی شدہ خواتین کو بھی وہ اہمیت نہیں دی جاتی جو نوجوان اور غیر شادی شدہ لڑکیوں کو دی جاتی ہے۔تاہم اداکارہ کا کہنا تھا کہ اب بولی وڈ میں تبدیلی آنا شروع ہوئی ہے اور نوجوان لڑکیاں بھی روایات کو بدلتے ہوئے درست وقت پر شادی کر رہی ہیں، ساتھ ہی انڈسٹری میں اپنا نام بھی بنا رہی ہیں۔دیا مرزا نے اعتراف کیا کہ اب بولی وڈ میں تھوڑی بہت تبدیلی آنا شروع ہوئی ہے اور خواتین کو اچھے کردار ملنے لگے ہیں۔خیال رہے کہ ‘سنجو’ سے پہلے دیا مرزا کی آخری فلم 7 سال قبل 2011 میں ریلیز ہونے والی فلم ‘لو، بریک اپس، زندگی’ تھی۔1999 سے تامل فلم میں ایک ڈانسر کا کردار ادا کرنے سے کیریئر کی شروعات کرنے والی دیا مرزا نے اب تک 35 کے قریب فلموں میں اداکاری کی، جن میں سے بعض فلموں میں انہوں نے مختصر کردار ادا کیے۔ان کی مشہور فلموں میں‘رہنا ہے تیرے دل میں، دیوانہ پن، تم کو نہ بھول پائیں گے، تہذیب، دم، بلیک میل، دس اور بلیک میل’ جیسی فلمیں شامل ہیں۔اداکارہ نے 2014 میں خاموشی سے ایک کاروباری شخص ساحل سانگھا سے منگنی کرکے سب کو حیران کردیا، تاہم اداکارہ نے اسی سال شادی بھی کرلی۔سات سالوں کے وقفے کے بعد وہ ‘سنجو’ میں نظر آئیں، جس میں ان کی اداکاری کو سراہا گیا۔


موضوعات: