جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

اگر چھوڑ دیا تو پھر وہ دوسرا شکار تلاش کریگا،جنسی ہراسانی کیلئے ضروری نہیں کہ جسمانی طور پر ۔۔میشا شفیع کے علی ظفر پر الزامات کے بعد صنم سعید بھی بول پڑیں

datetime 27  اپریل‬‮  2018 |

ممبئی (این این آئی)اداکارہ صنم سعید بھی میشا شفیع اور علی ظفر کے تنازع میں بول پڑیں۔صنم سعید نے ٹوئٹر پر پوسٹ میں کہا کہ انہوں نے خاموشی توڑ دی جو ان کیلئے اچھا ہے، یہ ہر اس شخص کیلئے اچھا ہے جو آواز اٹھاتا ہے لیکن وہ لوگ جو تنقید کررہے ہیں وہ یہ کیوں نہیں سوچ رہے کہ ہراساں کوئی بھی کرسکتا ہے، ضروری نہیں وہ کوئی دشمن یا بد کردار شخص ہو، وہ آپ کا دوست،

چاہنے والا یا فیملی کا کوئی فرد بھی ہوسکتا ہے۔صنم سعید نے کہاکہ اب بہت ہوگیا، اب سب بدلنے کی ضرورت ہے اور ہراساں کرنے والوں کو سامنے لانا ہوگا۔اداکارہ نے کہاکہ جو افراد کسی کی سچائی پر سوال کررہے ہیں وہ یہ جان لیں کہ جنسی ہراساں کا صرف یہی مطلب نہیں کہ کوئی جسمانی نقصان پہنچا ہو بلکہ جو شخص غیر اخلاقی بات کرے یا کوئی منفی جملہ کسے وہ بھی ہراساں کرنے میں آتا ہے جسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ نظر انداز کرنے سے ایسے لوگوں کو شے ملتی ہے اور پھر وہ کوئی دوسرا شکار تلاش کرتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ان حالات میں کبھی خاموش رہیں اور نہ ڈریں ٗجو کوئی بھی ہراسمنٹ کے خلاف آواز اٹھاتا ہے ہم اس کی حمایت کریں گے۔ادکارہ نے لکھا کہ نا انصافی اور زیادتی کے خلاف ہمیشہ آواز اٹھائیں، کمزور نہ بنیں اب یہ طریقہ مزید نہیں چل سکتا۔واضح رہے کہ معروف پاکستانی اداکارہ و گلوکارہ میشا شفیع نے ساتھی گلوکار علی ظفر پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگا دیا۔میشا شفیع نے سماجی رابطہ سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ ساتھی گلوکار علی ظفر نے انہیں ایک سے زائد مرتبہ جنسی ہراساں کیا اور اس قسم کے واقعات اس وقت پیش نہیں آئے جب وہ انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں داخل ہوئی تھیں۔میشا شفیع نے کہا کہ بااختیار اور اپنے خیالات رکھنے کے باوجود ان کےساتھ اس طرح کا واقعہ پیش آیا۔اداکارہ نے مزید کہا کہ

کوئی خاتون جنسی ہراسانی سے محفوظ نہیں ہے، ہم اپنے معاشرے میں اس پر بولنے سے ہچکچاتے ہیں اور خاموشی کی راہ لیتے ہیں، ہمیں اجتماعی طور پر اپنی آواز بلند کرنی چاہتے تاکہ خاموشی کے کلچر کو توڑا جاسکے۔میشا شفیع نے کہا کہ جنسی ہراسانی پر بات کرنا آسان نہیں لیکن اس پر خاموش رہنا بھی بہت مشکل ہے، میں خاموش رہنے کے کلچر کو توڑوں گی جو معاشرے میں سرائیت کرچکا ہے۔

موضوعات:



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…