جمعہ‬‮ ، 23 اکتوبر‬‮ 2026 

بینکنگ ایپس سے رقم چوری کرنے کا نیا طریقہ بے نقاب

datetime 22  اکتوبر‬‮  2026 |

کراچی(این این آئی) موبائل بینکنگ ایپس کے ذریعے شہریوں کے بینک اکاؤنٹس سے رقم چوری ہونے کی شکایات میں اضافے کے بعد سائبر کرائم حکام متحرک ہوگئے ہیں،

جبکہ جعلی سموں کے اجرا اور بینک صارفین کے ذاتی ڈیٹا کے مبینہ افشا کے ذریعے مالی فراڈ کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی ہدایت پر اسٹیٹ بینک، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) اور پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی مشترکہ ٹیمیں تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جو متاثرہ بینکوں، سموں کے اجرا اور متعلقہ فرنچائزز کے کردار کی تحقیقات کریں گی۔رپورٹ کے مطابق این سی سی آئی اے کو آن لائن ہراسانی کے بعد سب سے زیادہ شکایات آن لائن فراڈ اور موبائل بینکنگ ایپس کے ذریعے رقوم چوری ہونے سے متعلق موصول ہو رہی ہیں۔

عام شہریوں کے علاوہ ارکانِ پارلیمنٹ بھی ایسے واقعات سے متاثر ہوئے ہیں۔تحقیقاتی ذرائع کے مطابق بعض واقعات میں بینک ملازمین، موبائل فون کمپنیوں کی فرنچائزز کے اہلکاروں اور جعل سازوں کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس طریقہ واردات میں بینک صارفین کا ذاتی ڈیٹا مبینہ طور پر حاصل کرکے ان کے نام پر ڈپلیکیٹ سم جاری کرائی جاتی ہے، حالانکہ متعلقہ صارف نے خود اس کے اجرا کی درخواست نہیں دی ہوتی۔ذرائع کے مطابق جعل ساز ڈپلیکیٹ سم کے ذریعے صارف کے بینک اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ موبائل بینکنگ ایپ کی تصدیق کے لیے ون ٹائم پاس ورڈ (او ٹی پی) موصول ہونے کے بعد اکاؤنٹ سے رقم منتقل کیے جانے کا خدشہ ہوتا ہے۔رپورٹ کے مطابق ڈپلیکیٹ سم فعال ہونے کی صورت میں صارف کی اصل سم اچانک بند ہوسکتی ہے، جس کے باعث اسے بینک اکاؤنٹ سے ہونے والی مشکوک سرگرمیوں یا رقم کی منتقلی کا فوری علم نہیں ہو پاتا۔

صارف کی جانب سے موبائل فون کمپنی سے رابطہ کرکے اپنی سم دوبارہ فعال کرانے تک اکاؤنٹ سے رقم نکالی جا چکی ہوتی ہے۔تحقیقاتی حکام کو یہ بھی شبہ ہے کہ جعل ساز رقم نکلوانے کے بعد اسے برانچ لیس بینکنگ کے ذریعے مختلف اکاؤنٹس میں منتقل کردیتے ہیں، جس سے رقوم کے اصل وصول کنندگان تک پہنچنا مشکل ہوجاتا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جاز کیش اور ایزی پیسہ اکاؤنٹس سے متعلق مالی فراڈ کی متعدد شکایات سامنے آرہی ہیں۔ تاہم ان واقعات میں ملوث افراد، اداروں یا ملازمین کی ذمہ داری کا حتمی تعین تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ہوسکے گا۔مشترکہ تحقیقاتی ٹیمیں مبینہ طور پر ہیکنگ کا نشانہ بننے والے بینکوں، جعلی سموں کے اجرا، فرنچائزز کے طریقہ کار اور متعلقہ اہلکاروں کے کردار کا جائزہ لیں گی تاکہ فراڈ کے نیٹ ورک کی نشاندہی کرکے شہریوں کی رقوم کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جاسکیں۔سائبر فراڈ سے بچنے کے لیے شہری اپنے بینک اکاؤنٹس کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں، کسی غیر متعلقہ شخص کو او ٹی پی یا بینکنگ معلومات فراہم نہ کریں اور اگر موبائل سم اچانک بند ہوجائے تو فوری طور پر موبائل کمپنی اور بینک سے رابطہ کرکے اکاؤنٹ کی حفاظت یقینی بنائیں۔واضح رہے کہ بینک ملازمین اور سم فرنچائزز کے بعض اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت سے متعلق الزامات تاحال تحقیقات کے مرحلے میں ہیں؛ کسی فرد یا ادارے کے ملوث ہونے کا حتمی فیصلہ تحقیقاتی نتائج کی بنیاد پر ہی کیا جاسکے گا۔



کالم



بارہ منٹ کا کھیل


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

زندگی کا ذائقہ

یونان کے کسی بادشاہ نے وزیر سے ناراض ہو کر اسے…

عمران خان بھٹو(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

عمران خان بھٹو(دوسرا حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

 عمران خان بھٹو

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…