منگل‬‮ ، 06 اکتوبر‬‮ 2026 

جعلی کمپنیوں کے ذریعے 3ارب 26کروڑ کے انٹرنیٹ رائوٹرز درآمد ہونے کا انکشاف

datetime 6  اکتوبر‬‮  2026 |

کراچی(این این آئی) کسٹمز اے ایف یو کراچی سے جعلی کمپنیوں کے ذریعے اربوں روپے مالیت کے انٹرنیٹ رائوٹرز درآمد ہونے کا انکشاف ہوا ہے،

کسٹمز کی تحقیقاتی رپورٹ میں دو کمپنیوں کو مبینہ جعلی اور پیپر کمپنیاں قرار دیتے ہوئے انڈرانوائسنگ اور ٹریڈ بیسڈ منی لانڈرنگ کے شواہد سامنے آنے کا دعوی کیا گیا ہے۔کسٹمز تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق مسلم سنز انٹرپرائز اور موسانی سنڈیکیٹ کے نام سے 71 ہزار 815 انٹرنیٹ راٹرز درآمد کیے گئے، جن کی مجموعی مالیت ڈیوٹیز اور ٹیکسز سمیت 3 ارب 26 کروڑ روپے سے زائد بنتی ہے، راٹرز پی ٹی اے کی منظوری کے بغیر درآمد کیے گئے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دونوں کمپنیوں کو مبینہ طور پر فرنٹ مین کے نام پر رجسٹر کرکے خفیہ آپریٹرز کے لیے مارکیٹ آئی ڈیز کے طور پر استعمال کیا گیا، دونوں کمپنیوں کے رجسٹرڈ کاروباری پتے بھی مشکوک نکلے، ایک پتے پر آٹا اور چاول کی دکان جبکہ دوسرے پتے پر کرائے کا رہائشی مکان موجود تھا۔کسٹمز رپورٹ کے مطابق دونوں کمپنیوں کے وی بوک اکانٹس ہزاروں مختلف آئی پی ایڈریسز سے استعمال کیے گئے، مسلم سنز انٹرپرائز کے اکانٹ سے 2 ہزار 983 جبکہ موسانی سنڈیکیٹ کے اکانٹ سے 2 ہزار 732 منفرد آئی پی ایڈریسز منسلک پائے گئے، دونوں کمپنیوں کے ایک ہزار 48 آئی پی ایڈریسز مشترک نکلے جس سے مشترکہ کنٹرول کا شبہ مزید مضبوط ہوا۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق دونوں کمپنیوں نے 2 ارب 20 کروڑ روپے سے زائد کی درآمدات کیں جبکہ ڈیوٹیز اور ٹیکسز سمیت مجموعی لاگت 3 ارب 20 کروڑ روپے سے تجاوز کرگئی، اس کے مقابلے میں دونوں کمپنیوں کے مالکان کا ابتدائی مشترکہ سرمایہ صرف 22 لاکھ روپے تھا، جبکہ ظاہر کردہ 7 کروڑ 77 لاکھ روپے کا مجموعی سرمایہ بھی ایک ماہ کی درآمدی سرگرمی پوری کرنے کے لیے ناکافی تھا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کمپنیوں کی مالی حیثیت اور اربوں روپے کی درآمدات میں بڑے فرق سے خفیہ بینیفیشل اونرز کی جانب سے فنڈنگ کا شبہ پیدا ہوتا ہے، دونوں کمپنیوں کے 108 مقامی خریدار اور 12 غیر ملکی سپلائرز بھی مشترک نکلے۔کسٹمز رپورٹ کے مطابق اے کے سنز ٹریڈنگ کمپنی نے دونوں کمپنیوں کی مجموعی درآمدات کا 61 فیصد سامان فراہم کیا، جبکہ دونوں کمپنیوں کے سیلز ٹیکس ریٹرنز بھی متعدد مرتبہ چند منٹوں کے وقفے سے فائل کیے گئے۔تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تقریبا 2 ارب 90 کروڑ روپے کی مقامی فروخت کے باوجود کیش میں تقریبا کوئی سیلز ٹیکس ادا نہیں کیا گیا، بلیک لسٹ، معطل اور غیر فعال خریداروں کو بھی سامان فروخت کرنے کا انکشاف ہوا ہے جس سے جعلی یا فلائنگ انوائسز کے استعمال کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق بڑے پیمانے پر انڈرانوائسنگ بھی سامنے آئی، درآمدی قیمتوں میں اسیسمنٹ کے دوران تقریبا ایک ارب 30 کروڑ روپے کا اضافہ کیا گیا، راٹرز کی درآمدی قیمت صرف 9 کروڑ 70 لاکھ روپے ظاہر کی گئی تھی جو اسیسمنٹ کے بعد 56 کروڑ 50 لاکھ روپے تک پہنچ گئی۔کسٹمز تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معاملہ صرف پی ٹی اے کی منظوری کے بغیر راٹرز کی درآمد تک محدود نہیں بلکہ مبینہ مالی فراڈ اور ٹریڈ بیسڈ منی لانڈرنگ کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں، درآمدی رقوم فرنٹ کمپنیوں کے بینک اکانٹس کے ذریعے بیرون ملک بھیجے جانے کا شبہ ہے۔رپورٹ کے مطابق بینکوں سے فنڈز کے ذرائع اور ادائیگیوں کی مکمل تفصیلات طلب کی گئی ہیں، جبکہ غیر قانونی کلیئرنس سے انکار اور بینیفیشل اونرشپ کی چھان بین پر افسران پر دبا اور دھمکیوں کا سلسلہ شروع ہونے کا بھی دعوی کیا گیا ہے۔

کسٹمز تحقیقاتی رپورٹ میں کسٹمز، ان لینڈ ریونیو اور ایف آئی اے پر مشتمل جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بنانے کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ دونوں کمپنیوں کے وی بوک یوزر آئی ڈیز معطل یا منسوخ کرنے اور ٹیکس معاملات آر ٹی او ٹو کراچی کو بھیجنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق 71 ہزار سے زائد راٹرز کی مشکوک درآمد سے شروع ہونے والی تحقیقات مبینہ جعلی کمپنیوں، خفیہ آپریٹرز اور اربوں روپے کے مالی بہا تک پہنچ گئی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…