اسلام آباد (نیوز ڈیسک) حکومت نے ایسے لاکھوں افراد کو مستقبل میں پنشن اور سماجی تحفظ فراہم کرنے کے لیے نئے نظام پر کام شروع کردیا ہے
جو موجودہ پنشن اسکیموں کا حصہ نہیں ہیں۔پنشن اصلاحات کے حوالے سے کابینہ کمیٹی کا اجلاس وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی صدارت میں اسلام آباد میں ہوا، جس میں وفاقی وزراء چوہدری سالک حسین، بلال اظہر کیانی اور ہارون اختر سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران غیر رسمی معیشت سے منسلک افراد کو پنشن کے دائرے میں شامل کرنے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔ زیر غور تجاویز میں گھریلو ملازمین، زرعی شعبے سے وابستہ کارکن اور اپنے طور پر روزگار یا کاروبار کرنے والے افراد بھی شامل ہیں۔مجوزہ پنشن نظام کے تحت آجر، ملازمین اور خود روزگار افراد کی جانب سے پنشن فنڈ میں باقاعدہ شراکت جمع کرانے کا طریقہ کار وضع کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔ اس کے لیے رجسٹریشن اور ریکارڈ کے عمل کو ڈیجیٹل بنانے پر بھی غور کیا گیا تاکہ مستحق افراد کا ڈیٹا محفوظ رکھنے کے ساتھ نظام میں شفافیت لائی جاسکے۔حکام نے اجلاس میں ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن (ای او بی آئی) کے ڈیجیٹل ماڈل کو مدنظر رکھتے ہوئے آن لائن پورٹل اور رجسٹریشن کا مربوط نظام بنانے کی تجویز کا بھی جائزہ لیا۔
اجلاس کے شرکا نے مجوزہ اصلاحات کو عالمی اصولوں سے ہم آہنگ کرنے پر بھی گفتگو کی۔ اس سلسلے میں بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن کے مقررہ اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے ایک ایسا پنشن نظام تشکیل دینے کی تجویز زیر غور آئی جو طویل عرصے تک مالی طور پر قابل عمل اور پائیدار ہو۔وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ہر کارکن کو ریٹائرمنٹ کے بعد باعزت اور محفوظ زندگی گزارنے کے لیے سماجی تحفظ حاصل ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنشن کا موجودہ دائرہ رسمی یا سرکاری ملازمتوں تک محدود رکھنے کے بجائے غیر رسمی شعبے سے وابستہ افراد کو بھی اس نظام میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔حکومت کی زیر غور تجاویز اگر حتمی منظوری کے بعد نافذ ہوئیں تو گھریلو ملازمین، زرعی کارکنوں اور خود روزگار افراد سمیت غیر رسمی شعبے سے وابستہ لوگوں کو مستقبل میں پنشن اور مالی تحفظ کی سہولت میسر آنے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔



















































