جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

جائیدادوں سے متعلق خصوصی عدالتوں میں ای فائلنگ رولز 2026 جاری

datetime 1  اکتوبر‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک)اوورسیز پاکستانیوں کی جائیدادوں سے متعلق مقدمات کے عدالتی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کی جانب اہم قدم اٹھاتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ نے خصوصی عدالتوں کے لیے **ای فائلنگ اینڈ پروسیجر رولز 2026** جاری کردیئے ہیں۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم کی منظوری کے بعد رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ قواعد **پنجاب اسٹیبلشمنٹ آف سپیشل کورٹس (اوورسیز پاکستانی پراپرٹی) ایکٹ 2025** کے تحت تیار کیے گئے ہیں۔ نئے ضوابط کے ذریعے اوورسیز پاکستانیوں کی جائیدادوں سے متعلق مقدمات کی درخواستوں، سماعتوں، عدالتی ریکارڈ اور دیگر کارروائیوں کو الیکٹرانک نظام سے منسلک کیا جائے گا۔

قواعد کے مطابق مقدمات کی ای فائلنگ کے لیے لاہور ہائیکورٹ کے منظور شدہ پورٹل کو استعمال کیا جائے گا، جہاں درخواستیں، حلف نامے، دستاویزات اور دیگر ضروری ریکارڈ آن لائن جمع کرایا جاسکے گا۔ فائلنگ مکمل ہونے کے بعد درخواست گزار کو الیکٹرانک رسید، فائلنگ نمبر اور ادائیگی سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں گی۔

نئے طریقہ کار کے تحت وکلا اور مقدمے کے فریقین کے لیے پورٹل پر رجسٹریشن ضروری ہوگی۔ انہیں بنیادی الیکٹرانک پتے اور شناختی معلومات کی بنیاد پر سسٹم تک رسائی دی جائے گی۔ عدالت فریقین کی درخواست یا حالات کے مطابق مناسب سمجھنے پر کارروائی کو الیکٹرانک ذرائع کے ذریعے آگے بڑھانے کا اختیار بھی رکھے گی۔

عدالتی ریکارڈ اپ لوڈ کرتے وقت دستاویزات کا قابلِ قبول، واضح اور مقررہ فارمیٹ میں ہونا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ تصاویر، آڈیو، ویڈیوز، نقشے اور دیگر متعلقہ مواد بھی عدالت کے طے کردہ طریقہ کار کے مطابق الیکٹرانک ریکارڈ کا حصہ بنائے جاسکیں گے۔

لاہور ہائیکورٹ نے الیکٹرانک نوٹسز اور سروس کے حوالے سے بھی واضح طریقہ کار وضع کیا ہے۔ فریقین کو عدالتی نوٹس ای میل، پورٹل پر نوٹیفکیشن یا دیگر منظور شدہ الیکٹرانک ذرائع کے ذریعے بھیجے جاسکیں گے، جبکہ الیکٹرانک سروس کا ریکارڈ عدالتی کارروائی میں محفوظ رکھا جائے گا۔

اوورسیز پاکستانیوں کی شرکت کو آسان بنانے کے لیے مخصوص حالات میں ویڈیو لنک کے ذریعے سماعت کی اجازت بھی دی گئی ہے۔ تاہم عدالت فریقین کی حاضری، کارروائی کی شفافیت اور انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ویڈیو لنک کے استعمال کا طریقہ طے کرے گی۔

قواعد میں الیکٹرانک شواہد اور عدالتی کارروائی کی ریکارڈنگ سے متعلق بھی ضوابط شامل ہیں۔ عدالت کے سامنے الیکٹرانک شکل میں پیش کیے جانے والے قابلِ قبول شواہد کا جائزہ لیا جاسکے گا، جبکہ کارروائی کی ریکارڈنگ اور ڈیجیٹل ریکارڈ کو محفوظ رکھنے کے لیے بھی طریقہ کار مقرر کیا گیا ہے۔

نئے قواعد کے مطابق عدالتی فیصلے، ڈگریاں اور دیگر اہم دستاویزات پورٹل پر اپ لوڈ کی جائیں گی۔ بعض مخصوص حالات میں پورٹل پر الیکٹرانک طور پر اپ لوڈ کیا گیا فیصلہ سرکاری نقل کے طور پر قابلِ قبول ہوسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ڈیجیٹل طور پر تصدیق شدہ نقول کے اجرا اور ان کی تصدیق کا طریقہ بھی مقرر کیا گیا ہے۔

عدالتی معلومات کی سکیورٹی اور رازداری کے لیے بھی خصوصی انتظامات تجویز کیے گئے ہیں۔ حساس عدالتی ریکارڈ تک رسائی متعلقہ قانون اور لاہور ہائیکورٹ کی پالیسی کے تحت محدود ہوگی، جبکہ ڈیٹا کے تحفظ کے لیے بیک اپ اور دیگر حفاظتی اقدامات کیے جائیں گے۔

نوٹیفکیشن میں یہ گنجائش بھی رکھی گئی ہے کہ اگر کسی معاملے میں ای فائلنگ ممکن نہ ہو تو مخصوص وجوہات کی بنیاد پر فزیکل فائلنگ کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ اسی طرح پورٹل میں تکنیکی خرابی یا سروس معطل ہونے کی صورت میں متبادل فائلنگ طریقہ اختیار کرنے کی بھی اجازت ہوگی۔

لاہور ہائیکورٹ کے مطابق یہ قواعد متعلقہ **لاہور ہائیکورٹ رولز اینڈ آرڈرز** میں شامل کیے جائیں گے۔ 14 صفحات پر مشتمل دستاویز میں ای فائلنگ، عدالتی سماعت، نوٹسز، ریکارڈ، فیصلوں، الیکٹرانک شواہد اور عبوری انتظامات سمیت خصوصی عدالتوں کے لیے تفصیلی طریقہ کار بیان کیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…