اسلام آباد (نیوز ڈ یسک)ایرانی کرنسی کی قدر میں مسلسل گراوٹ کے باعث امریکی ڈالر نے آزاد مارکیٹ میں ایک اور بلند ترین سطح عبور کرلی، 29 ستمبر کو ڈالر کی قیمت 25 لاکھ ریال سے بھی اوپر پہنچ گئی۔
تازہ رپورٹس کے مطابق ایرانی ریال کی قدر میں حالیہ دنوں کے دوران نمایاں کمی ہوئی ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 29 ستمبر کو ایک ڈالر کی قیمت تقریباً 25 لاکھ 42 ہزار ایرانی ریال تک ریکارڈ کی گئی، جبکہ اس سے ایک روز قبل یہ شرح تقریباً 24 لاکھ 5 ہزار ریال تھی۔کرنسی کی قدر میں اس تیزی سے کمی کے نتیجے میں ایران میں درآمد ہونے والی اشیا، خام مال اور دیگر ضروری مصنوعات کی لاگت بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ریال کی مسلسل کمزوری سے مہنگائی میں اضافے کے ساتھ شہریوں کی قوت خرید بھی متاثر ہوسکتی ہے۔رپورٹس میں ایرانی کرنسی پر دباؤ کی مختلف وجوہات بیان کی گئی ہیں، جن میں امریکی پابندیاں، بلند شرح مہنگائی، صنعتی و پیداواری مسائل، تجارتی مشکلات اور غیر ملکی کرنسی تک محدود رسائی شامل ہیں۔ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ مختلف ذرائع اور ثالثوں کے ذریعے ہونے والی بات چیت میں آبنائے ہرمز سمیت متعدد معاملات زیر بحث ہیں، تاہم مذاکرات کی شرائط پر دونوں ممالک کے مؤقف میں اب بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔
ایرانی ریال کی تازہ گراوٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں جاری کشیدگی اور تجارتی سرگرمیوں کو درپیش رکاوٹوں نے ایران کی معیشت پر مزید دباؤ بڑھایا ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کا ایک اہم بحری راستہ ہے، اس لیے وہاں کی صورتحال ایران کی تجارت اور زرمبادلہ کی آمدن پر بھی اثر انداز ہوسکتی ہے۔معاشی صورتحال کے تناظر میں ایرانی کرنسی کو اندرونی اقتصادی مشکلات کے ساتھ ساتھ بیرونی پابندیوں اور علاقائی حالات کے اثرات کا سامنا ہے۔ آئندہ دنوں میں ریال اور ڈالر کی شرح تبادلہ پر ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی پیش رفت، پابندیوں سے متعلق صورتحال اور خطے کے حالات کے اثرات نمایاں رہنے کا امکان ہے۔



















































