بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

پی ٹی آئی کا لانگ مارچ: اسلام آباد اور خیبر پختونخوا کی اہم شاہراہیں سیل، تعلیمی ادارے بند

datetime 23  ستمبر‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے ممکنہ لانگ مارچ کے پیش نظر اسلام آباد اور خیبر پختونخوا کے درمیان آمدورفت کے اہم راستوں پر سیکیورٹی سخت کردی گئی ہے، جبکہ متعدد موٹرویز اور شاہراہوں کو ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ہے۔

موٹروے پولیس کے ترجمان کے مطابق ایم ون، ایم 14، ہزارہ موٹروے اور جی ٹی روڈ کو رات 11 بجے سے تاحکمِ ثانی ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق ایم ون کو اسلام آباد ٹول پلازہ سے چھچھ انٹرچینج تک جبکہ ایم 14 کو ہکلہ سے کنڈل تک بند کیا گیا ہے۔ اسی طرح جی ٹی روڈ پر اٹک خورد، ای 35 ہزارہ موٹروے پر ہزارہ انٹرلنک، راولپنڈی کوہاٹ روڈ پر خوشحال گڑھ اور ایبٹ آباد حسن ابدال روڈ پر جھاری کس چیک پوسٹ کے مقامات پر بھی آمدورفت روک دی گئی ہے۔

دوسری جانب وفاقی دارالحکومت میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی کے وسیع انتظامات کیے گئے ہیں۔ مختلف اہم شاہراہوں اور حساس مقامات پر تقریباً 1200 کنٹینرز پہنچا کر ریڈ زون کی جانب جانے والے راستوں کو بند کیا گیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ریڈ زون کے بعض مقامات پر کنٹینرز کی دوہری رکاوٹیں بھی قائم کی گئی ہیں، جبکہ پانچ داخلی راستوں میں سے دو مکمل طور پر بند کیے جاچکے ہیں۔

انتظامیہ کی جانب سے ترنول، سنگجانی، شاہراہ ایران، 26 نمبر چنگی، سری نگر ہائی وے، ٹی چوک روات اور فیض آباد سمیت مختلف مقامات پر ناکہ بندی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بہارہ کہو میں کشمیر سے آنے والی ٹریفک کو روکنے کے لیے بھی انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔

اسلام آباد پولیس کے مطابق شہر میں مجموعی طور پر 22 ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار مختلف مقامات پر ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں۔ سیکیورٹی نگرانی کے لیے 8 ڈی آئی جیز اور 10 ایس ایس پیز تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ 40 ایس پیز، 58 ڈی ایس پیز اور 266 انسپکٹرز بھی مختلف علاقوں میں فرائض انجام دے رہے ہیں۔

حکام کے مطابق اسلام آباد پولیس کے علاوہ پنجاب اور سندھ سے بھی 13 ہزار سے زائد اہلکار طلب کیے گئے ہیں، جبکہ ایف سی اور رینجرز کے دستے بھی دارالحکومت میں سیکیورٹی ڈیوٹی پر موجود ہیں۔

سیکیورٹی اہلکاروں کی رہائش کے لیے بعض تعلیمی اداروں کو استعمال کیا جارہا ہے، جس کے باعث ان اداروں میں تعلیمی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔

شہر کی نگرانی کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے بھی مدد لی جارہی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق 15 ہزار سے زائد سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے مختلف علاقوں کی مسلسل نگرانی کی جارہی ہے، جبکہ ڈرونز کے ذریعے فضائی مانیٹرنگ بھی کی جارہی ہے۔

دوسری جانب سیکیورٹی اہلکار ہوٹلوں، ریستورانوں اور سرائے خانوں کی چیکنگ کر رہے ہیں، جبکہ شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر بھی نگرانی اور تلاشی کا عمل مزید سخت کردیا گیا ہے۔

انتظامیہ کے مطابق سیکیورٹی اقدامات کا بنیادی مقصد شہریوں کے جان و مال کا تحفظ، دارالحکومت میں امن و امان برقرار رکھنا اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی انتظامات یقینی بنانا ہے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…