پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

پائلٹ کے بغیر امریکی طیارے کا بڑا کارنامہ، پہلی پرواز کامیابی سے مکمل

datetime 21  ستمبر‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ملک کے پاور سیکٹر میں مسابقتی بجلی مارکیٹ کی جانب اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے، جس کے تحت مستقبل میں بجلی کے صارفین کو اپنی ضرورت اور انتخاب کے مطابق بجلی خریدنے کا موقع مل سکے گا۔

پاور ڈویژن نے ملک میں پہلی ویلنگ نیلامی کے لیے خواہشمند اداروں سے تجاویز طلب کرتے ہوئے ریکوئسٹ فار پروپوزل (RFP) جاری کردیا ہے۔ یہ اقدام بجلی کی خرید و فروخت کے دوطرفہ مسابقتی نظام، سی ٹی بی سی ایم، کے تحت کیا جارہا ہے۔

نئے طریقہ کار کے تحت کاروباری ادارے اور صنعتی صارفین براہِ راست پاور پلانٹس سے مسابقتی بنیادوں پر بجلی حاصل کرسکیں گے۔ منصوبے کے مطابق آئندہ پانچ برس کے دوران مجموعی طور پر 800 میگاواٹ بجلی کی نیلامی کی جائے گی، جبکہ ابتدائی مرحلے میں 400 میگاواٹ بجلی نیلامی کے لیے مختص کی گئی ہے۔

وزیر توانائی اویس لغاری نے بجلی کی نیلامی کے عمل کے آغاز پر وزیراعظم اور عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اب ملک میں بجلی کی خریداری کے روایتی طریقہ کار میں تبدیلی کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔

اویس لغاری کے مطابق اس وقت حکومت ایک مرکزی نظام کے تحت بجلی خرید کر صارفین تک پہنچاتی ہے، تاہم بجلی کی خریداری کی شرائط اور طریقہ کار کے حوالے سے عوام کی جانب سے ہمیشہ سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز کا نام بھی وقت کے ساتھ متنازع بحث کا حصہ بن چکا ہے۔

وزیر توانائی نے کہا کہ حکومت عملی طور پر بجلی کی خریداری کے عمل سے باہر نکلنے کی جانب بڑھ رہی ہے۔ مستقبل میں بجلی پیدا کرنے والے ادارے اور صارفین آپس میں براہِ راست خرید و فروخت کرسکیں گے، جبکہ حکومت کے لیے بجلی کی خریداری یا کسی مخصوص فریق کو حکومت کو بجلی فروخت کرنے کا موجودہ طریقہ کار تبدیل ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ بجلی کی خرید و فروخت کا نیا نظام شفاف اور مسابقتی بنیادوں پر استوار ہوگا۔ ابتدا میں اس سہولت سے بڑے صنعتی اور کمرشل صارفین فائدہ اٹھائیں گے، جبکہ آنے والے برسوں میں ملک میں بجلی کی باقاعدہ مارکیٹ تشکیل پانے کی توقع ہے۔

اویس لغاری کا کہنا تھا کہ مرحلہ وار اس نظام کو عام صارفین تک بھی وسعت دی جائے گی، جس کے بعد ایک عام بجلی صارف کو بھی اپنی ضرورت کے مطابق بجلی کے ذرائع اور قیمت کے انتخاب کا موقع مل سکے گا۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر ایک میگاواٹ سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والے صارفین اس نظام سے فائدہ اٹھائیں گے۔ ان کے مطابق کم قیمت بجلی کی دستیابی سے پاکستانی صنعت کو عالمی مارکیٹ میں مسابقت برقرار رکھنے میں مدد ملے گی اور ملکی صنعتیں اپنی مصنوعات زیادہ بہتر انداز میں عالمی منڈیوں تک پہنچا سکیں گی۔

وزیر توانائی نے کہا کہ حکومت نے عوام سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل کی جانب پیش رفت کی ہے اور اس اہم اقدام پر وزیراعظم سمیت پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…