پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

غلط ای چالان آگیا؟ گھر بیٹھے اعتراض درج کرانے کا آسان طریقہ سامنے آگیا

datetime 31  اگست‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)غلط یا متنازع ای چالان جاری ہونے کی صورت میں شہریوں کے لیے اہم سہولت فراہم کردی گئی ہے۔

اب شہریوں کو اعتراض درج کرانے کے لیے ٹریفک پولیس کے دفتر جانے کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ وہ گھر بیٹھے آن لائن ریویو درخواست جمع کراسکیں گے۔

لاہور ٹریفک پولیس کے مطابق کسی بھی متنازع ای چالان کو پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے آن لائن ای چالان پورٹل پر چیلنج کیا جاسکتا ہے۔ اس اقدام کا مقصد شہریوں کو آسان طریقے سے شکایت درج کرانے کی سہولت دینا اور غیر ضروری دفتری کارروائی سے بچانا ہے۔

ای چالان پر اعتراض کیسے درج کیا جائے؟

سب سے پہلے شہری پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے سرکاری ای چالان پورٹل پر جائیں اور مطلوبہ معلومات درج کرکے اپنا چالان تلاش کریں۔

چالان کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد شہری کو اس میں درج معلومات کا بغور جائزہ لینا ہوگا۔ اگر اسے محسوس ہو کہ چالان غلط طور پر جاری کیا گیا ہے تو وہ ’’Review‘‘ کے آپشن کا انتخاب کرسکتا ہے۔

اس مرحلے پر پورٹل کی جانب سے طلب کی جانے والی ضروری معلومات فراہم کرکے ریویو درخواست آن لائن جمع کرائی جاسکتی ہے۔

درخواست موصول ہونے کے بعد متعلقہ حکام شکایت اور متنازع چالان کا جائزہ لیں گے۔ جانچ پڑتال مکمل ہونے پر درخواست گزار کو فیصلے سے آگاہ کردیا جائے گا۔

اس آن لائن نظام کے باعث شہریوں کو معمولی نوعیت کے اعتراضات کے لیے ٹریفک پولیس کے دفاتر کے چکر لگانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

آن لائن ریویو درخواست جمع کرانے میں کسی مشکل کی صورت میں شہری لاہور ٹریفک پولیس کی ہیلپ لائن 0322-5638888 پر رابطہ کرکے رہنمائی حاصل کرسکتے ہیں۔

لاہور میں ٹریفک قوانین کی نگرانی کے لیے ڈیجیٹل نظام کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث ای چالان شہریوں کے لیے بھی اہمیت اختیار کرگئے ہیں۔ آن لائن ریویو کی سہولت کے ذریعے شہری غلط یا مشتبہ چالان کے خلاف اپنا مؤقف متعلقہ حکام تک باآسانی پہنچاسکیں گے۔

ٹریفک پولیس نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ ای چالان موصول ہونے کے بعد اس میں درج تمام معلومات ضرور چیک کریں اور کسی غلطی کی صورت میں مقررہ طریقہ کار کے مطابق بروقت آن لائن اعتراض دائر کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…