اسلام آباد (نیوز ڈیسک)واٹس ایپ نے صارفین کو ممکنہ آن لائن فراڈ سےرکھنے کے لیے ’’اسکیم الرٹ‘‘ نامی نیا فیچر متعارف کرا دیا ہے، جو فی الحال اینڈرائیڈ کے محدود بیٹا صارفین کے لیے دستیاب ہے۔ٹیکنالوجی رپورٹس کے مطابق یہ سہولت واٹس ایپ کے اینڈرائیڈ بیٹا ورژن 2.26.34.1 میں آزمائشی طور پر پیش کی گئی ہے۔
اس فیچر کا مقصد نامعلوم نمبروں سے موصول ہونے والے ایسے پیغامات کی نشاندہی کرنا ہے جن میں دھوکا دہی یا فراڈ کا شبہ ہو۔
نئے فیچر کے فعال ہونے کی صورت میں اگر واٹس ایپ کسی غیر معروف نمبر سے آنے والی گفتگو کو ممکنہ اسکیم تصور کرے تو صارف کو اس حوالے سے ایک حفاظتی انتباہ دکھائی دے گا۔ صارف اس کے بعد نمبر کو قابل اعتماد قرار دینے، اسے بلاک کرنے یا متعلقہ پیغام کی رپورٹ کرنے کا انتخاب کرسکے گا۔واٹس ایپ کے اس حفاظتی نظام کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ پیغام بھیجنے والے شخص کو یہ معلوم نہیں ہوگا کہ وصول کنندہ کے اکاؤنٹ پر اسکیم الرٹ فعال ہے۔
اگر صارف کسی گفتگو یا قابل اعتماد قرار دے تو اسے اختیاری طور پر چیٹ کے آخری پانچ پیغامات واٹس ایپ کے ساتھ شیئر کرنے کا موقع بھی دیا جائے گا، جس سے فیچر کی بہتری میں مدد مل سکتی ہے۔یہ فیچر فی الحال لازمی نہیں بلکہ اختیاری رکھا گیا ہے۔ صارف اسے اپنی سیٹنگز میں جا کر فعال کرسکتے ہیں، تاہم اس کی دستیابی بیٹا ورژن اور متعلقہ واٹس ایپ اکاؤنٹ پر منحصر ہوگی۔میٹا کے مطابق مشتبہ پیغامات کی جانچ کے لیے صارف کے فون پر موجود مشین لرننگ ماڈل استعمال کیا جاتا ہے۔
٫کمپنی کا کہنا ہے کہ اسکیم کی درجہ بندی کے مقصد سے پیغام کا مواد ڈیوائس سے باہر منتقل نہیں کیا جاتا۔میٹا نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ مشتبہ پیغامات خودکار طور پر واٹس ایپ، میٹا یا کسی بیرونی ادارے کو رپورٹ نہیں کیے جائیں گے۔ اس طریقہ کار کا مقصد فراڈ کے ممکنہ خطرے سے آگاہ کرنے کے ساتھ صارفین کے پیغامات کی رازداری اور اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کو برقرار رکھنا ہے۔اس وقت ’’اسکیم الرٹ‘‘ محدود تعداد میں بیٹا صارفین کے لیے دستیاب ہے اور عام صارفین تک اس کی رسائی کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ تاہم آزمائشی مرحلے کا آغاز اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کامیاب تجربے کے بعد یہ سہولت مستقبل میں مزید صارفین کے لیے بھی جاری کی جاسکتی ہے۔



















































