ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

ملک بھر میں آٹے کی ہوشربا قیمتیں،عوام کیلئے بری خبر آگئی

datetime 29  اگست‬‮  2026 |

اسلام آباد(نیوز ڈ یسک)ملک کے مختلف شہروں میں آٹے کے نرخ ایک مرتبہ پھر بڑھ گئے ہیں، جس کے باعث شہریوں کے لیے روزمرہ استعمال کی اس بنیادی چیز کا حصول مزید مہنگا ہوگیا ہے۔

کراچی میں آٹے کی قیمت سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔ادارہ شماریات کی تازہ رپورٹ کے مطابق کراچی میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 200 روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد اس کی قیمت 3200 روپے تک پہنچ گئی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق اسلام آباد میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 3093 روپے میں فروخت ہورہا ہے، جبکہ پشاور میں اس کی قیمت 3100 روپے اور راولپنڈی میں 3067 روپے ریکارڈ کی گئی ہے۔حیدرآباد میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2940 روپے جبکہ بنوں میں 2900 روپے ہے۔ کوئٹہ میں یہی تھیلا 2850 روپے میں دستیاب ہے۔رپورٹ کے مطابق سرگودھا، ملتان، سیالکوٹ اور گوجرانوالہ میں 20 کلو آٹے کی قیمت 2800 روپے مقرر کی گئی ہے۔

بہاولپور میں یہ قیمت 2740 روپے، لاڑکانہ اور خضدار میں 2700 روپے جبکہ سکھر میں 2500 روپے ہے۔دوسری جانب لاہور میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 2300 روپے اور فیصل آباد میں 2200 روپے میں فروخت ہورہا ہے۔آٹے کے نرخوں میں مسلسل اضافے پر شہریوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی کے موجودہ دور میں بنیادی غذائی اشیا کی قیمتیں بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جارہی ہیں۔شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو قابو کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو مناسب نرخوں پر بنیادی خوراک کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…