لاہور( این این آئی)گوادر سائوتھ فری زون اور گوادر نارتھ فری زون میں کام کرنے والی تمام کمپنیوں نے اپنی تجارتی اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے چینی کرنسی آر ایم بی کو براہِ راست پاکستانی روپے میں تبدیل کرنا شروع کردیا
جسے پاکستان اور چین کے درمیان کرنسی ایکسچینج کے نظام میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا جارہا ہے۔گوادر میں ہینگن ٹریڈ کمپنی کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ نئے مالیاتی انتظام کے تحت آر ایم بی کو براہِ راست پاکستانی روپے میں تبدیل کرنے کی سہولت فراہم ہونے سے چینی سرمایہ کاروں کو ہر ایک کروڑ روپے کے لین دین پر تقریباً 5 لاکھ روپے تک کی بچت ہوسکتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس نئے نظام سے قبل چینی تاجروں اور سرمایہ کاروں کو پہلے آر ایم بی کو امریکی ڈالر میں اور پھر ڈالر کو پاکستانی روپے میں تبدیل کرنا پڑتا تھا جس کے باعث ڈالر کی قدر میں اتار چڑھا کی وجہ سے انہیں شرح مبادلہ کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔نئے مالیاتی انتظام کے تحت آر ایم بی اور پاکستانی روپے کے درمیان براہِ راست لین دین سے ایک جانب کرنسی کی تبدیلی کے مراحل کم ہوں گے جبکہ دوسری جانب کاروباری لاگت اور شرح مبادلہ سے متعلق خطرات میں بھی کمی آئے گی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صنعتی و تجارتی سرگرمیوں اور پاک چین اقتصادی تعاون کے جائزے کے لیے آئی سی بی سی کے حکام نے چینی قونصل خانے کراچی اور بینک آف چائنا کے سینئر حکام کے ہمراہ رواں ہفتے گوادر کا دورہ کیا۔دستیاب معلومات کے مطابق پیپلز بینک آف چائنا اور نیشنل بینک آف پاکستان کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی تعاون کے تحت پیپلز بینک آف چائنا نے انڈسٹریل اینڈ کمرشل بینک آف چائنا کی کراچی برانچ کو پاکستان میں آر ایم بی کلیئرنگ بینک کے طور پر خدمات انجام دینے کی اجازت دے رکھی ہے۔آئی سی بی سی پاکستان میں آر ایم بی سے متعلق کلیئرنگ کے عمل کے ساتھ ساتھ متعلقہ نگرانی اور ریگولیٹری ذمہ داریاں بھی انجام دے گا۔گوادر فری زونز میں آر ایم بی سے پاکستانی روپے میں براہِ راست تبدیلی کی سہولت سے چینی سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کیلئے مالیاتی لین دین مزید آسان ہونے، کاروباری لاگت کم ہونے اور پاک چین تجارتی و اقتصادی روابط کو مزید فروغ ملنے کی توقع ہے۔



















































