اسلام آباد (نیوز ڈیسک) عالمی مارکیٹ میں بٹ کوائن کے نرخ میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی 80 ہزار ڈالر کی سطح سے اوپر پہنچ گئی ہے، جو تین ماہ سے زائد عرصے کی بلند ترین قیمت قرار دی جارہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی ڈالر کی قدر میں کمی اور امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ کی جانب سے بانڈ مارکیٹ میں استحکام لانے کے لیے کیے گئے اقدامات کے بعد کرپٹو مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی دوبارہ بڑھ گئی ہے۔ایشیائی کاروباری اوقات کے دوران بٹ کوائن 80 ہزار 323 ڈالر 24 سینٹس پر ٹریڈ کرتا دیکھا گیا، جبکہ دورانِ کاروبار اس کی قیمت 81 ہزار 237 ڈالر 94 سینٹس تک بھی پہنچ گئی۔ یہ سطح مئی کے وسط کے بعد بٹ کوائن کی بلند ترین قیمت ہے۔اعداد و شمار کے مطابق اگست میں اب تک بٹ کوائن کی قدر میں تقریباً 28 فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔ موجودہ رفتار برقرار رہنے کی صورت میں یہ نومبر 2024 کے بعد کسی ایک ماہ میں کرپٹو کرنسی کی سب سے بڑی ماہانہ پیش رفت ہوسکتی ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کانگریس پر زور دیا تھا کہ کرپٹو کرنسی کے تیزی سے بڑھتے ہوئے شعبے کے لیے واضح قانونی فریم ورک اور تعریفیں متعین کرنے والا قانون منظور کیا جائے۔رپورٹس کے مطابق اس اعلان کے بعد بٹ کوائن کی قیمت میں تقریباً 16 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا جاچکا ہے، جس سے کرپٹو مارکیٹ میں مجموعی طور پر مثبت رجحان مزید مضبوط ہوا ہے۔
BTC is back above $80,000. 🚀
Market momentum is building again.
Trade global assets 24/7 with BIT pic.twitter.com/NY2Q1P8DON
— BIT Official (@BITofficial_EN) August 25, 2026



















































