واشنگٹن(این این آئی)آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر جاری حملوں اور امریکا ایران مذاکرات میں تعطل کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں جولائی کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق عالمی منڈی میں 18اگست کو برینٹ خام تیل کی قیمت 91ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی تقریباً 85ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔رائٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل مسلسل تیسرے کاروباری سیشن میں مہنگا ہوا اور 91.07ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جبکہ WTI تقریباً 84.99ڈالر پر رہا۔ دیگر مارکیٹ رپورٹس میں برینٹ کی قیمت 91.6ڈالر تک پہنچنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔پیٹرول کی یہ قیمتیں اس اطلاع کے فوری بعد بڑھی ہیں جس میں برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے بتایا تھا کہ آبنائے ہرمز سے نکلتے ہوئے ایک تجارتی جہاز کو نامعلوم سمت سے آنے والے ایک پروجیکٹائل نے نشانہ بنایا۔ اس پراسرار حملے میں جہاز کے انجن روم کو نقصان پہنچا تھا اور اس واقعے میں عملے کا ایک رکن ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں جبکہ دیگر عملے کو عمانی کوسٹ گارڈ نے ریسکیو کیا۔یہ حملہ اس لیے پراسرار ہے کیوں کہ تاحال کسی گروپ نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی، ایران کی پاسداران انقلاب اور یمن کے حوثیوں نے بھی نہ تو حملے کی تردید کی ہے اور نہ تصدیق کی ہے جب کہ وہ اس سے قبل کئی حملوں کی ذمہ داری ببانگ دہل تسلیم کرچکے ہیں۔
خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ 60روزہ جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے باوجود تاحال امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونا بھی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع سے انکار کردیا ہے جبکہ ایران نے مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں زیادہ جارحانہ فوجی پوزیشن اختیار کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ایران کا موقف ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک مکمل طور پر نہیں کھولی جائے گی جب تک امریکا معاہدے کی شرائط پوری نہیں کرتا جبکہ امریکا تاحال ایران پر دباو برقرار رکھنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ اس صورتحال نے آبنائے ہرمز اور باب المندب سے دنیا کو کی جانے والی پیٹرولیم مصنوعات لہ ترسیل میں بری طرح خلل ڈالا ہے اور جس سے نہ صرف پیٹرول و گیس کی قلت پیدا ہو رہی ہے بلکہ قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔رائٹرز کے مطابق دوسری جانب سعودی عرب نے آبنائے ہرمز کے اندر سے خام تیل کی لوڈنگ دوبارہ شروع کردی ہے۔ سعودی آرامکو نے ایشیائی خریداروں کے لیے فجیرہ کے قریب سمندر میں جہاز سے جہاز میں تیل منتقل کرنے کا طریقہ استعمال کرنا شروع کیا ہے۔
اس طریقے کو استعمال کرتے ہوئے 12 سے 16 اگست کے دوران تین بڑے خام تیل بردار جہازوں میں مجموعی طور پر تقریباً 60 لاکھ بیرل سعودی تیل لوڈ کیا گیا تاہم یہ متبادل انتظام معمول کی ترسیل کا مکمل متبادل نہیں۔ادھر خطے میں سکیورٹی خدشات کے باعث بعض بڑے شپنگ آپریٹرز نے آبنائے ہرمز اور باب المندب سے گزرنے سے گریز شروع کردیا ہے۔ چینی سرکاری شپنگ کمپنیوں نے بھی خطے کے اہم بحری راستوں سے آپریشن محدود کرکے فجیرہ اور عمان کے قریب متبادل راستے اختیار کیے ہیں۔



















































