بدھ‬‮ ، 19 اگست‬‮ 2026 

نادرا سے شناختی کارڈ بروقت وصول نہیں کریں گے تو کیا ہوگا؟

datetime 19  اگست‬‮  2026 |

کراچی(این این آئی)نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے شہریوں کو شناختی کارڈ بروقت وصول کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مقررہ مدت میں کارڈ وصول نہ کرنے کی صورت میں اسے تلف کردیا جاتا ہے اور شہریوں کو دوبارہ درخواست کے ساتھ فیس بھی ادا کرنا پڑتی ہے۔

نادرا کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق شہری شناختی کارڈ کی درخواست جمع کرانے کے بعد مقررہ مدت مکمل ہونے پر اپنا شناختی کارڈ جلد از جلد متعلقہ مرکز سے وصول کریں۔ پالیسی کے تحت ڈلیوری کی آخری تاریخ گزرنے کے 3 ماہ بعد غیر وصول شدہ شناختی کارڈ تلف کردیا جاتا ہے۔نادرا کے مطابق اگر کوئی شہری مقررہ مدت کے اندر اپنا شناختی کارڈ وصول نہیں کرتا تو اسے دوبارہ شناختی کارڈ بنوانے کے لیے نئی درخواست جمع کرانا ہوگی، جبکہ اس عمل کے لیے مقررہ فیس بھی دوبارہ ادا کرنا ہوگی۔نادرا نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ شناختی کارڈ کے حصول کے دوران کسی بھی مرحلے پر مطلوبہ دستاویزات یا عملے کی ہدایات سے متعلق ابہام ہو تو خاموش رہنے کے بجائے متعلقہ افسر سے وضاحت طلب کی جائے۔

اتھارٹی کے مطابق شہریوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ سروس کے حصول کے لیے درکار دستاویزات سے متعلق تحریری معلومات حاصل کریں۔ اگر کسی شہری کو دستاویزات کے حوالے سے وضاحت درکار ہو تو وہ متعلقہ افسر سے تحریری ہدایات طلب کرسکتا ہے۔نادرا نے کہاکہ اگر مطلوبہ تحریری رہنمائی فراہم نہ کی جائے تو شہری نادرا کسٹمر سروسز کے ذریعے اپنی شکایت درج کرا سکتے ہیں۔شناختی دستاویزات سے متعلق شکایات اور رہنمائی کے لیے شہری نادرا کے متعلقہ شکایتی نظام یا کسٹمر سروسز سے رابطہ کرسکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…