منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

’گزشتہ مالی سال میں پٹرولیم لیوی کی مد میں 99 ارب روپے اضافی وصول کیے گئے‘

datetime 14  اگست‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی حکومت نے مالی سال 2025-26 کے دوران پٹرولیم لیوی کی مد میں مقررہ ہدف سے 99 ارب روپے زیادہ حاصل کیے۔

وزارتِ خزانہ کی دستاویز کے مطابق گزشتہ مالی سال پٹرولیم لیوی سے حاصل ہونے والی رقم کا ہدف 1,468 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا، تاہم حکومت نے اس مد میں 1,567 ارب روپے وصول کیے۔

دستاویز کے مطابق مالی سال 2025-26 میں حکومت کی ٹیکس اور نان ٹیکس آمدن مجموعی طور پر 19,773 ارب روپے رہی۔ آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ شرط کے تحت پرائمری بیلنس 3,634 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا۔ اخراجات میں کمی اور پٹرولیم لیوی کی زیادہ وصولی کے باعث پرائمری بیلنس مقررہ ہدف کے مقابلے میں سرپلس رہا۔

گزشتہ مالی سال بجٹ خسارہ 4,763 ارب روپے ریکارڈ ہوا، جبکہ حکومت نے مجموعی طور پر 3,313 ارب روپے کا نیا قرض حاصل کیا۔ ان میں سے 2,135 ارب روپے مقامی ذرائع سے حاصل کیے گئے۔

اعداد و شمار کے مطابق بیرونی فنانسنگ کا خالص حجم 1,113 ارب روپے رہا۔ حکومت نے قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے مجموعی طور پر 6,947 ارب روپے خرچ کیے، جس میں مقامی قرضوں پر 6,040 ارب اور بیرونی قرضوں پر 917 ارب روپے سود کی ادائیگی شامل ہے۔

صوبوں کو این ایف سی کے تحت 7,668 ارب روپے جاری

مالی سال 2025-26 کے دوران این ایف سی کے تحت صوبوں کو مجموعی طور پر 7,668 ارب روپے منتقل کیے گئے، جبکہ مالی سال 2024-25 میں یہ رقم 6,854 ارب روپے تھی۔

این ایف سی ایوارڈ کے تحت سب سے زیادہ 3,370 ارب روپے پنجاب کو ملے۔ سندھ کو 1,897 ارب، خیبرپختونخوا کو 1,240 ارب جبکہ بلوچستان کو 736 ارب روپے جاری کیے گئے۔

صوبوں کی جانب سے بھی مالی سال کے اختتام پر بجٹ سرپلس ریکارڈ کیا گیا۔ پنجاب نے 914 ارب، سندھ نے 349 ارب، خیبرپختونخوا نے 164 ارب جبکہ بلوچستان نے 20 ارب روپے کا سرپلس دیا۔

حکام کے مطابق آئندہ ماہ ہونے والے آئی ایم ایف کے پانچویں اقتصادی جائزے کے دوران یہی معاشی اعداد و شمار پیش کیے جائیں گے۔

دفاع، پنشن اور سبسڈی پر اخراجات

دستاویز کے مطابق گزشتہ مالی سال مرکزی بینک سے حکومت کو 2,428 ارب روپے کا منافع حاصل ہوا۔ دفاعی شعبے کے لیے 2,587 ارب روپے خرچ کیے گئے، جبکہ پنشن کی مد میں اخراجات 1,001 ارب روپے رہے۔

اسی عرصے کے دوران مختلف سبسڈیز پر حکومت نے 1,013 ارب روپے خرچ کیے۔

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 میں حکومت کے مجموعی اخراجات 23,087 ارب روپے رہے، جو ملکی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) کے 18.2 فیصد کے برابر ہیں۔ اس کے مقابلے میں مالی سال 2024-25 کے دوران مجموعی حکومتی اخراجات جی ڈی پی کے 21.4 فیصد ریکارڈ کیے گئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…