اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان منی مزدا ایسوسی ایشن اور آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن نے اپنے مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں 8 اگست سے ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے بروقت مذاکرات نہ کیے تو ہڑتال سے ملک میں تجارتی سرگرمیاں، درآمدات اور برآمدات شدید متاثر ہو سکتی ہیں۔
پاکستان منی مزدا ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر تنویر جٹ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹرانسپورٹر برادری روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی، بھاری ٹول ٹیکس اور غیر ضروری جرمانوں سے شدید پریشان ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ایندھن کی قیمتوں کا تعین روزانہ کے بجائے ماہانہ بنیاد پر کیا جائے اور ٹرانسپورٹرز کو بے جا جرمانوں اور اضافی ٹیکسوں سے ریلیف دیا جائے۔
دوسری جانب آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن کے صدر چوہدری اویس گجر نے کہا کہ ایکسل لوڈ لمٹ کا نظام قانون کے مطابق نافذ کیا جائے۔ ان کے بقول اس شعبے میں بدعنوانی بڑھ چکی ہے اور مختلف مقامات پر رشوت ستانی کی شکایات عام ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹرانسپورٹرز ہر سال ٹول ٹیکس کی مد میں بھاری رقوم ادا کرتے ہیں، مگر اس کے باوجود شاہراہوں کی حالت خراب ہے، جس کی وجہ سے حادثات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مختلف اداروں کے اہلکار اور پٹرولنگ پولیس ٹرانسپورٹرز اور ڈرائیورز کو بلاوجہ ہراساں کرتے ہیں، جس سے مسائل مزید بڑھ رہے ہیں۔
ٹرانسپورٹر رہنما خالد آرائیں نے حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دیگر ممالک میں ٹرانسپورٹ کے شعبے کو سہولیات دی جاتی ہیں، جبکہ پاکستان میں اس کے برعکس مشکلات میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے مختلف واقعات میں ٹرانسپورٹرز کی گاڑیاں تباہ ہوئیں، لیکن متاثرین کو مناسب معاوضہ فراہم نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق ٹرانسپورٹرز پہلے ہی مختلف ٹیکس ادا کرتے ہیں، اس کے باوجود انہیں خاطر خواہ سہولیات میسر نہیں۔
خالد آرائیں نے مزید کہا کہ اوور لوڈنگ کے خلاف قانون پر عمل درآمد ضرور ہونا چاہیے، تاہم اس کی آڑ میں ڈرائیورز کے ساتھ ناروا سلوک اور غیر ضروری جرمانے قابل قبول نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت ٹرانسپورٹرز کے نمائندوں کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کرے تو چند گھنٹوں میں بیشتر مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے۔



















































