اسلام آباد (نیوز ڈ یسک)فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سگریٹ انڈسٹری میں ٹیکس چوری کے خلاف وسیع پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے
متعدد بااثر سیاسی خاندانوں کی ملکیت قرار دی جانے والی فیکٹریوں کو سیل کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق اس مہم کے دوران اربوں روپے کی مبینہ ٹیکس بے ضابطگیوں کا سراغ لگایا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایات کے بعد ایف بی آر نے “زیرو ٹالرنس” پالیسی کے تحت غیر قانونی سگریٹ سازی اور ٹیکس چوری کے خلاف سخت اقدامات کا آغاز کیا۔ سیاسی دباؤ کے باوجود مختلف علاقوں میں بلاامتیاز کارروائیاں جاری رکھی گئیں۔حکومتی اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی نو ماہ کے دوران غیر قانونی اور اسمگل شدہ سگریٹوں کے خلاف 710 سے زائد آپریشن کیے گئے، جن میں بڑی مقدار میں غیر قانونی مصنوعات اور سامان قبضے میں لیا گیا۔نومبر 2025 میں ریجنل ٹیکس آفس پشاور نے مردان میں واقع ایک بڑی تمباکو کمپنی کے گودام پر چھاپہ مارا تھا۔ کارروائی کے دوران مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا، تاہم حکام نے مبینہ طور پر ٹیکس چوری میں استعمال ہونے والے 200 کارٹن سگریٹ ضبط کر کے فیکٹری کو سیل کر دیا۔مزید برآں، مشینری کو غیر قانونی طور پر منتقل کرنے کے الزام میں کمپنی کے دو مالکان کو حراست میں لیا گیا، جبکہ دسمبر 2025 میں اسی ادارے سے کروڑوں روپے مالیت کی مشینری اور بھاری مقدار میں خام مال بھی ضبط کیا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق ماضی میں خیبر پختونخوا میں سخت نگرانی کے بعد بعض ٹیکس نادہندہ کمپنیاں اپنے یونٹس آزاد کشمیر منتقل کر چکی تھیں تاکہ قانونی کارروائی اور ٹیکس نظام سے بچا جا سکے۔حکام کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ بعض فیکٹری مالکان نے حالیہ عرصے میں اپنی پیداواری مشینری سندھ کے مختلف علاقوں میں منتقل کی، جہاں مبینہ طور پر رات کے اوقات میں بغیر ٹیکس سگریٹ تیار کر کے ملک بھر میں سپلائی کیے جا رہے



















































