کراچی (این این آئی)سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ پرائیویٹ بسوں میں مسافروں کو سبسڈی دینے والا واحد صوبہ ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجود ہ جنگی صورتحال پورے خطے میں ہے۔ وفاقی حکومت کو مجبوری میں پیٹرول کی قیمت بڑھانی پڑی ، جس سے عوام پر بوجھ پڑا ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ نے 35 ارب روپے کی سبسڈی تھی ۔ سب سے زیادہ اہمیت کسان کو دی گئی ہے۔ 25 ایکڑ تک زمین رکھنے والے کسانوں کو پیسے ملنا شروع ہوگئے ہیں۔ 1500 روپے فی ایکڑ پر کسان کو مل رہے ہیں۔ ان کا ڈیٹا ہمارے پاس ہے ۔شرجیل میمن نے کہا کہ دوسرے نمبر پر موٹر سائیکل والوں کو سہولت دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ روزانہ ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے دفاتر کھلے ہیں۔ کل سے آج تک 15000 سیزائد لوگوں نے اپنے کوائف جمع کروائے ہیں ۔ 6.7 ملین لوگوں کو 2 ہزار روپے فی اکانٹ فراہم ہوں گے ۔سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ سندھ میں ٹرانسپورٹرز کو سبسڈی دی جا رہی ہے ، یہ واحد صوبہ ہے جو پرائیویٹ بسوں میں بھی سبسڈی دے رہا ہے۔پریس کانفرنس میں شرجیل میمن نے کہا کہ منشیات کی وجہ سے معاشرہ تباہ ہو رہا ہے ، نوجوان نسل تباہ ہو رہی ہے ۔ نیول انٹلیجنس کی اطلاع پر چھاپہ مارا ہے ، جس میں 500 کلو گرام سے زائد مقدار میں آئس پکڑی گئی ہے ، جس کی مالیت 5 ارب روپے سے زیادہ ہے۔اس موقع پر وزیر ایکسائز مکیش کمار چاولہ نے بتایا کہ 15 ہزار موٹر سائیکل سواروں نے سبسدی کے لیے اپلائی کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سرور ڈان ہوگیا تھا ، جسے بہتر کردیا گیا ہے۔
کل ہی 2800 لوگوں کو اکانٹ میں پیسے جاری ہوگئے ہیں۔ سندھ بینک میں اکانٹ تھا، جہاں سے 56 لاکھ روپے جاری ہوئے ہیں۔ صوبے میں 30 سے 35 لاکھ موٹر سائیکل اصلی اونر کے نام ہیں۔انہوں نے کہا کہ جیکب آباد میں چرس پکڑی گئی ہے ، شکار پور میں چرس اور فارچونر گاڑی پکڑی گئی ، پاک نیوی کے تعاون سے بڑی کاروائی کی گئی ، جس میں 500 کلو گرام آئس پکڑی گئی ہے ۔ شکار پور کے کیس میں سندھ پولیس نے تعاون کیا ہے۔ 2 دن میں بڑی کاروئیاں کی ہیں اورایک سے دو ارب روپے مالیت کی شراب بھی پکڑی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ موٹر سائیکل رجسٹریشن کی کوئی فیس نہیں ہے ۔ ٹرانسپورٹ کی ٹیمیں کام کر رہی ہیں ۔ تاجر برادری سے کل ملاقات ہوئی ہے، ان کی ایک رائے نہیں مختلف رائے ہیں ۔ لاکھوں کی تعداد میں لیبر شادی ہالوں اور ریسٹورنٹس پر کام کر رہے ہیں ۔ حکومت نے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ۔ سب سے زیادہ ٹیکس کراچی شہر سے جمع ہوتے ہیں۔ اگر تاجر راضی ہوتے ہیں تو حکومت کو کوئی مسئلہ نہیں۔



















































