پیر‬‮ ، 30 مارچ‬‮ 2026 

چینی توانائی منصوبے پاکستان میں سستی بجلی کا ذریعہ بن گئے

datetime 30  مارچ‬‮  2026 |

اسلام آباد (این این آئی) مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اہم سپلائی راستوں جیسے آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی توانائی منڈیاں شدید دباؤ کا شکار ہیں تاہم پاکستان توانائی کے شعبے میں چین کے ساتھ طویل مدتی تعاون کے ذریعے استحکام حاصل کر رہا ہے۔

چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت توانائی منصوبے ملک کو بیرونی جھٹکوں سے محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیںکیونکہ یہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کر کے مقامی اور قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع کو فروغ دے رہے ہیں۔گوادر پرو کو ایک خصوصی انٹرویو میں پی پی آئی بی کے منیجنگ ڈائریکٹر شاہ جہاں مرزا، جو گزشتہ ایک دہائی سے ادارے کی قیادت کر رہے ہیں اور تقریباً تمام سی پیک توانائی منصوبوں کی نگرانی کر چکے ہیںنے پاکستان کے بدلتے ہوئے توانائی منظرنامے، قابلِ تجدید وسائل کے بڑھتے کردار اور توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے میں چینی سرمایہ کاری کے پھیلاؤ پر روشنی ڈالی۔گوادر پرو کے مطابق بنیادی طور پر سی پیک کے تحت سب سے زیادہ سرمایہ کاری توانائی منصوبوں میں آئی۔ جب 2013ـ14 میں سی پیک کا آغاز ہوا تو پاکستان کو شدید لوڈشیڈنگ کا سامنا تھا حتیٰ کہ اسلام آباد میں بھی روزانہ تقریباً 12 گھنٹے بجلی بند رہتی تھی۔ ایک گھنٹہ بجلی آتی تھی اور ایک گھنٹہ بند ہوتی تھی یہ اس وقت کی صورتحال تھی۔چینی حکومت اور کمپنیوں نے پاکستانی شراکت داروں کے ساتھ مل کر سخت محنت کی، جس کے نتیجے میں منصوبے تیزی سے مکمل ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق ابتدائی منصوبوں میں وقت بچانے کے لیے درآمدی ایندھن استعمال کیا گیالیکن سی پیک کا اصل مقصد پاکستان کے مقامی وسائل کو فروغ دینا تھا۔ اس میں تھر کا کوئلہ انتہائی اہم ہے، جبکہ قابلِ تجدید توانائی جیسے ہوا، شمسی اور پن بجلی بھی کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ سی پیک کے تحت تھر کے کوئلے سے تقریباً 3300 میگاواٹ کے چھ منصوبے مکمل کیے گئے، جو مکمل طور پر مقامی وسائل پر مبنی ہیں اور درآمدی ایندھن کی کمی کے وقت نہایت کارآمد ثابت ہوتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق اسی دوران شمسی، ہوا اور پن بجلی کے منصوبے بھی تیزی سے بڑھے ہیں۔ سی پیک کے تحت تقریباً 1400 میگاواٹ شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ دو بڑے نجی پن بجلی منصوبے بھی مکمل کیے گئے: 884 میگاواٹ سوکی کناری اور 720 میگاواٹ کروٹ منصوبہ۔ان منصوبوں نے پاکستان میں سستی، ماحول دوست اور قابلِ تجدید توانائی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ جب تیل اور ایل این جی کی درآمد مہنگی اور مشکل ہو جاتی ہے، تو یہ مقامی ذرائع بغیر کسی درآمدی ایندھن کے بجلی پیدا کرتے ہیں، قیمتی زرمبادلہ بچاتے ہیں اور ملک کو عالمی بحرانوں سے کم متاثر ہونے دیتے ہیں۔ یہی سی پیک کی بڑی کامیابی ہے کہ اس نے پاکستان کو توانائی کے شعبے میں خود کفیل بنایا ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان میں شمسی توانائی بہت تیزی سے بڑھی ہے۔ نیٹ میٹرنگ اسکیم کے تحت صارفین اپنی چھتوں پر سولر سسٹم لگا کر اضافی بجلی گرڈ میں دیتے ہیں اور ضرورت کے وقت واپس لیتے ہیں،یہ نظام 2015 میں متعارف ہوا، ابتدا میں مہنگا ہونے کی وجہ سے رفتار سست تھی، لیکن گزشتہ چند سالوں میں تیزی سے پھیلا ہے۔رپورٹ کے مطابق حکومتی مراعات اور کم ہوتی قیمتوں کے باعث اب تقریباً 7200 میگاواٹ سولر سسٹم گرڈ سے منسلک ہیں۔

اس کے علاوہ 14000 سے 15000 میگاواٹ کے درمیان آفـگرڈ سولر بھی نصب ہو چکا ہے۔گوادر پرو کے مطابق یہ واضح ہو رہا ہے کہ مستقبل قابلِ تجدید توانائی کا ہے، خصوصاً اس لیے کہ پاکستان میں سورج کی روشنی سال بھر وافر مقدار میں دستیاب ہے۔رپورٹ کے مطابق چین نہ صرف سرمایہ کاری کر رہا ہے بلکہ زیادہ تر سولر آلات بھی چین میں تیار ہوتے ہیں۔ اس طرح چین دو طریقوں سے مدد کر رہا ہے: ایک، سستی اور معیاری ٹیکنالوجی فراہم کر کے؛ دوسرا، بجلی منصوبوں میں سرمایہ کاری کر کے۔رپورٹ کے مطابق آنے والے دس سالوں میں ہوا اور شمسی توانائی کے منصوبوں میں زیادہ تر سرمایہ کاری اور تنصیب چینی کمپنیوں کے ذریعے ہوگی، کیونکہ اس شعبے میں چین کو وسیع تجربہ حاصل ہے۔رپورٹ کے مطابق قابلِ تجدید توانائی کے بڑھتے استعمال کے لیے مضبوط اور جدید گرڈ ضروری ہے کیونکہ ہوا اور شمسی توانائی کی پیداوار مسلسل تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ اس لیے گرڈ کی ڈیجیٹلائزیشن انتہائی اہم ہے۔رپورٹ کے مطابق حکومت کا ہدف ہے کہ 2035 تک کم از کم 60 فیصد بجلی قابلِ تجدید ذرائع سے حاصل کی جائے، جبکہ مجموعی طور پر 90 فیصد صاف توانائی (بشمول جوہری توانائی) سے پیدا کی جائے۔رپورٹ کے مطابق اس مقصد کے لیے ٹرانسمیشن نظام کی توسیع اور اپ گریڈیشن میں چینی سرمایہ کاری بہت اہم ہے۔ مثال کے طور پر مٹیاری سے لاہور تک 900 کلومیٹر طویل ایچ وی ڈی سی ٹرانسمیشن لائن، جس کی گنجائش 4000 میگاواٹ ہے اور لاگت تقریباً 1.6 ارب ڈالر ہے، ایک بڑی پیش رفت ہے۔رپورٹ کے مطابق بیٹری کے ذریعے توانائی ذخیرہ کرنا ایک تیزی سے ابھرتا ہوا شعبہ ہے۔ بجلی کی بڑھتی قیمتوں کے باعث صارفین بیٹری کے ساتھ سولر سسٹم کی طرف جا رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق آنے والے دس سالہ منصوبوں میں بڑے پیمانے پر بیٹری اسٹوریج منصوبے شامل ہیں، جو دن کے وقت پیدا ہونے والی بجلی کو محفوظ کر کے شام کے وقت استعمال میں لائیں گے۔ یہ نہ صرف سستا حل ہے بلکہ گرڈ کے استحکام کو بھی بہتر بناتا ہے۔گوادر پرو کے مطابق اس شعبے میں تحقیق بڑھ رہی ہے اور بیٹری کی قیمتیں کم ہو رہی ہیں، جس سے یہ مستقبل میں سرمایہ کاری کا ایک بڑا ذریعہ بن سکتا ہیاور اس میں بھی چینی کمپنیاں اہم کردار ادا کریں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کے لیے واحد آپشن


بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…