اسلام آباد (نیوز ڈیسک) امریکی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا نے روسی تیل پر عائد پابندیوں میں عارضی نرمی کرتے ہوئے انہیں وقتی طور پر معطل کر دیا ہے۔
امریکی ذرائع کے مطابق محکمہ خزانہ نے اعلان کیا ہے کہ روسی تیل سے متعلق پابندیوں میں دی گئی یہ رعایت 11 اپریل تک برقرار رہے گی۔ اس فیصلے کے تحت محدود مدت کے لیے روسی تیل کی خرید و فروخت پر کچھ پابندیاں نرم کی گئی ہیں۔امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسینٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ اگرچہ اس اقدام سے روس کو کچھ فائدہ پہنچنے کا امکان ہے، تاہم یہ سہولت صرف مختصر عرصے کے لیے فراہم کی گئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی توانائی کے شعبے کی حمایت پر مبنی پالیسیوں کے باعث امریکا میں تیل اور گیس کی پیداوار ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے۔
ادھر ایک امریکی ادارے کی تازہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے روسی تیل کی عالمی سپلائی میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ رپورٹ کے مطابق روسی تیل کی فراہمی تقریباً 16 لاکھ بیرل بڑھ کر 2 کروڑ 17 لاکھ بیرل تک جا پہنچی۔
اعداد و شمار کے مطابق چین روسی تیل کا سب سے بڑا خریدار رہا اور اس نے تقریباً ایک کروڑ 24 لاکھ بیرل تیل درآمد کیا۔ دوسری جانب بھارت کی جانب سے بھی خریداری میں اضافہ دیکھا گیا اور اس کی درآمدات تقریباً دو لاکھ بیرل اضافے کے ساتھ 86 لاکھ بیرل تک پہنچ گئیں۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ترکیہ کی بندرگاہوں پر روسی تیل کی ترسیل تقریباً سات لاکھ بیرل رہی۔ اسی طرح امریکی پابندیوں میں نرمی کے بعد بھارت کی ساحلی تنصیبات پر تقریباً تین کروڑ بیرل روسی تیل پہنچ چکا ہے، جبکہ توقع ہے کہ آئندہ ہفتے بھارت مزید پچاس لاکھ بیرل روسی تیل وصول کرے گا۔



















































