جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

10 ارب کی پوری پی آئی اے 11 ارب کا اکلوتا طیارہ : پنجاب حکومت لگژری جیٹ خریدنے پر تنقید کی زد میں

datetime 19  فروری‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک)پنجاب حکومت کی جانب سے مبینہ طور پر مہنگا اور لگژری طیارہ خریدنے کی اطلاعات نے سیاسی اور عوامی حلقوں میں نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب حکومت کی طرف سے ایک اشتہار جاری کیا گیا جس میں خاص طور پر گلف اسٹریم جی 500 اڑانے کے تجربہ کار پائلٹ کی خدمات درکار ہونے کا ذکر تھا۔بتایا جاتا ہے کہ 2019 میں تیار ہونے والا یہ طیارہ عموماً عالمی رہنماؤں اور بڑی کارپوریشنز کے زیر استعمال ہوتا ہے اور اس کی مالیت تقریباً 11 ارب روپے سے زائد بتائی جا رہی ہے۔ حال ہی میں اسے لاہور اور سیالکوٹ کے درمیان پرواز کرتے دیکھا گیا، جہاں اس نے “پنجاب 2” کال سائن استعمال کیا، جو عموماً وزیراعلیٰ کی موجودگی میں استعمال کیا جاتا ہے۔سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے اس مبینہ خریداری پر شدید تنقید کی۔ مفتاح اسماعیل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ایک طرف حکومت پیٹرول اور ڈیزل مہنگا کر کے عوام سے قربانیوں کا مطالبہ کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف اشرافیہ کے لیے لگژری سہولتیں مہیا کی جا رہی ہیں۔محمد زبیر نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ اربوں روپے مالیت کا یہ جہاز مبینہ طور پر وزیراعلیٰ اور مخصوص حکومتی شخصیات کے استعمال کے لیے لیا گیا ہے، اور سوال اٹھایا کہ معاشی مشکلات کا شکار ملک کیا ایسی شاہ خرچی برداشت کر سکتا ہے۔

دوسری جانب خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے طنزیہ ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف نے پوری پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کو تقریباً 10 ارب روپے میں فروخت کیا، جبکہ پنجاب حکومت نے مبینہ طور پر ایک ہی طیارے پر اس سے زیادہ رقم خرچ کر دی۔ ان کا کہنا تھا کہ 13 کروڑ آبادی کے صوبے کے لیے صرف 19 نشستوں والا جہاز لینا حکمرانی کے طرز پر سوالیہ نشان ہے، کیونکہ اس کے اخراجات میں مرمت، ایندھن اور عملہ بھی شامل ہوں گے۔حکام کی جانب سے اس معاملے پر تاحال باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم یہ خبر سیاسی اور عوامی سطح پر بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…