ہفتہ‬‮ ، 31 جنوری‬‮ 2026 

خبردار !اب کوئی گاڑی بغیر کمپیوٹرائز فٹنس کے نہیں چل سکے گی

datetime 31  جنوری‬‮  2026 |

کراچی (این این آئی)سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ میں موٹر گاڑیوں کے پورے نظام کو کمپیوٹرائز کر دیا گیا ہے

اور بغیر کمپیوٹرائز فٹنس کے اب کوئی گاڑی سڑک پر نہیں چل سکتی ،محکمہ صحت کی ایمبولینسز کو واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ کن حالات میں سائرن اور لائٹس استعمال کرنی ہیں۔ ان کے مطابق مریض کو اٹھانے اور ہسپتال پہنچانے کے دوران ہی سائرن بجایا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے مزید نئی بسوں کی خریداری کا عمل جاری ہے، کچھ بسیں پورٹ پر موجود ہیں جبکہ حکومت سندھ نے مزید 500 بسوں کی اجازت دے دی ہے، ہر شہری کو بہتر ٹرانسپورٹ سہولت دینا حکومت سندھ کی ترجیح ہے۔انہوں نے یہ بات جمعہ کو سندھ اسمبلی میں محکمہ ٹرانسپورٹ سے متعلق وقفہ سوالات کے دوران ارکان کے مختلف تحریری اور ضمنی سوالوں کا جواب دیتے ہوئے بتائی ۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں ٹریفک سگنلز کے حوالے سے ڈی آئی جی ٹریفک محکمہ ٹرانسپورٹ اور ٹریفک حکام کو ہدایات دیتے ہیں، جبکہ ان ہدایات پر عملدرآمد کروانا محکمہ ٹرانسپورٹ کی ذمہ داری ہے۔ شہر میں 12 نئے ٹریفک سگنلز نصب کیے گئے ہیں جن میں ماڈل کالونی، گلبرگ، طاہر ولاز، کمپریہینسو اسکول، ٹیپو سلطان روڈ، گرومندر، موچی موڑ، کامران چورنگی، منور چورنگی، اسٹیل ٹاو ن، ٹاو ن شپ کراسنگ اور مدارس چوک اسپارکو شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ٹریفک سمارٹ سسٹم اور سمارٹ سٹی منصوبے پر بھی کام جاری ہے، جبکہ کچھ سگنلز آٹومیٹک اور کچھ ضرورت کے مطابق مینوئل چلتے ہیں۔ سگنلز کے کانٹریکٹس سیپرا قوانین کے تحت شفاف بڈنگ کے ذریعے تجربے کی بنیاد پر دیے جاتے ہیں۔سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے شٹل سروس کو حکومت سندھ کا مو ثر اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل بسیں صدر اور تاج کمپلیکس تک آتی تھیں جس سے ٹریفک کا شدید دباو تھا۔

اب بس اسٹینڈز کو شہر سے باہر منتقل کر کے شہریوں کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی گئی ہے جو مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل تک پہنچاتی ہے، اور اس پر حکومت کو کوئی ادائیگی نہیں کرنی پڑ رہی کیونکہ یہ سہولت ٹرانسپورٹرز فراہم کر رہے ہیں۔موٹر وہیکل انسپیکشن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پہلے فٹنس سرٹیفکیٹ مینوئلی جاری ہوتے تھے اور کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہوتا تھا، حتی کہ کے پی اور بلوچستان سے آنے والی گاڑیوں کو بھی یہاں سے سرٹیفکیٹ مل جاتا تھا۔ اب اس پورے نظام کو کمپیوٹرائز کر دیا گیا ہے اور بغیر کمپیوٹرائز فٹنس کے کوئی گاڑی سڑک پر نہیں چل سکتی۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ میں پہلے صرف دو موٹر وہیکل انسپیکٹر ہوتے تھے، اب سینٹر قائم کیے گئے ہیں اور 2025 میں ان فٹ گاڑیوں کے خلاف بھرپور کارروائی کی گئی۔ اعداد و شمار کے مطابق 2935 ڈمپرز، 2138 آئل ٹینکرز، 183 ٹریکٹرز، 13918 ٹرالرز، 30917 ٹرکس اور 6109 واٹر ٹینکرز چالان کیے گئے، جبکہ مجموعی طور پر 56200 گاڑیوں پر کارروائی کر کے 8 کروڑ 21 لاکھ 68 ہزار روپے جرمانہ وصول کیا گیا۔شرجیل انعام میمن نے کہا کہ وزیر اعلی سندھ کی ہدایت ہے کہ تمام محکموں کو اپنے پیروں پر کھڑا کیا جائے۔ اب مینوئل کے بجائے آٹومیٹڈ سرٹیفکیٹس جاری ہو رہے ہیں جو عوام کے لیے بہتر اور شفاف نظام ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پی ٹی اے اور آر ٹی اے پبلک ٹرانسپورٹ کو روٹ پرمٹس دیتی ہیں، جبکہ پہلے جعلی روٹ پرمٹس کے ذریعے گاڑیاں چل رہی تھیں، اب ہر چیز آٹومیٹڈ ہے اور مکمل ریکارڈ حکومت کے پاس موجود ہے۔

اگر کوئی گاڑی فٹ نہ ہو تو اسے تحویل میں لیا جاتا ہے اور فٹ ہونے کے بعد ہی سڑک پر آنے کی اجازت دی جاتی ہے۔انہوں نے کراچی بس ٹرمینل میں جدید سہولیات اور 24 گھنٹے انسپیکشن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سہراب گوٹھ پر یوٹرنز کی وجہ سے ٹریفک کے مسائل تھے جنہیں حل کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے محکمہ ٹرانسپورٹ کے افسران کو ہدایت دی کہ لاڑکانہ میں غیر قانونی ٹرمینلز کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی سمیت سندھ کے ہر شہر کو بسوں کی ضرورت ہے اور ماس ٹرانزٹ منصوبوں پر سنجیدگی سے کام جاری ہے، جن میں ریڈ لائن اور یلو لائن شامل ہیں۔سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ جہاں حکومت بسیں چلا رہی ہے وہاں نئے روٹ پرمٹس جاری نہیں کیے جا رہے اور پرانے روٹ پرمٹس ختم ہونے پر تجدید بھی نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے پاکستان کی پہلی ای وی بس سروس اور خواتین کے لیے مخصوص پنک بس سروس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات طویل المدتی منصوبہ بندی کا حصہ ہیں۔ یلو لائن اور ریڈ لائن منصوبوں میں 5 فیصد خرچ بسوں اور 95 فیصد انفرا اسٹرکچر پر آ رہا ہے کیونکہ بڑھتی آبادی کو ماس ٹرانزٹ دینا ناگزیر ہے۔انہوں نے بتایا کہ روزانہ دو لاکھ افراد حکومت سندھ کی بسوں پر سفر کرتے ہیں، جبکہ گرین لائن کی یومیہ رائیڈرشپ 50 ہزار سے بڑھ کر 80 سے 85 ہزار ہو چکی ہے۔ اورنج لائن اور گرین لائن کو آپس میں انٹیگریٹ کر دیا گیا ہے تاکہ مسافروں کو دوہرا کرایہ ادا نہ کرنا پڑے۔ بی آر ٹی میں خواتین کے لیے پنک بسز چل رہی ہیں جس سے خواتین کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ حکومت سندھ نے مفت ای وی اسکوٹی اسکیم شروع کی ہے۔ پہلے سندھ بھر میں صرف 150 خواتین کے پاس موٹر سائیکل کا ڈرائیونگ لائسنس تھا، جبکہ اب 15 ہزار خواتین نے لائسنس کے لیے درخواست دے رکھی ہے۔ جن خواتین کے پاس لائسنس ہوگا انہیں مفت ای وی اسکوٹی فراہم کی جائے گی۔ ان کے مطابق پنک بس سروس کے آغاز پر دنیا بھر کے میڈیا میں مثبت خبریں شائع ہوئیں اور یہ تمام اقدامات خواتین کو بااختیار بنانے کی عملی مثال ہیں۔انہوں نے کہا کہ بسوں اور ڈبل ڈیکرز میں خصوصی افراد کے لیے سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ کراچی میں مختلف میگا پروجیکٹس جاری ہیں جن پر کے ایم سی اور لوکل گورنمنٹ کام کر رہے ہیں، جبکہ جہاں جہاں سڑکوں کے مسائل ہیں وہاں حکومت سندھ عملی اقدامات کر رہی ہے۔ وزیر اعلی سندھ نے کراچی کے انفرا اسٹرکچر کے لیے باقاعدہ بجٹ مختص کر رکھا ہے۔



کالم



کاشان میں ایک دن


کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…