اسلام آباد (نیوز ڈیسک) گرین ٹاؤن میں پالتو جانوروں کی پراسرار ہلاکتوں کا معمہ بالآخر حل ہو گیا ہے۔ پولیس کے مطابق علاقے میں کئی ماہ سے یہ شکایات سامنے آ رہی تھیں کہ رات کے وقت پالتو جانور اچانک مر جاتے یا غائب ہو جاتے ہیں، جس سے اہلِ محلہ شدید تشویش میں مبتلا تھے۔تحقیقات کے دوران حاصل ہونے والی سی سی ٹی وی فوٹیج نے اس خوفناک سلسلے سے پردہ اٹھا دیا۔ فوٹیج میں دیکھا گیا کہ ایک خاکروب رات کے اندھیرے میں جانوروں کے چارے میں زہریلا مادہ ملا دیتا تھا، جس کے باعث جانور ہلاک ہو جاتے تھے۔مقامی افراد نے ملزم شاہد کو واردات کے دوران رنگے ہاتھوں پکڑ لیا اور موقع پر ہی اسے قابو کر لیا۔
بعد ازاں ملزم نے اعترافِ جرم کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنے ساتھی راشد کے ساتھ مل کر یہ کارروائیاں انجام دیتا تھا۔ پولیس کے مطابق دونوں ملزمان ہلاک شدہ جانوروں کا گوشت مختلف ہوٹلوں کو فروخت کرتے تھے۔پولیس نے دونوں ملزمان کو گرفتار کر کے ان کے خلاف 8 مقدمات درج کر لیے ہیں۔ مزید برآں، ملزمان کے انکشافات کی روشنی میں فوڈ اتھارٹی کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے تاکہ ملوث ہوٹلوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران 30 سے 40 پالتو جانور اس سفاکی کا شکار ہو چکے ہیں، اور انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔















































