بدھ‬‮ ، 14 جنوری‬‮ 2026 

7 پاکستانی بینک ایشیا ءپیسیفک کے ٹاپ 15 بینکوں میں شامل

datetime 13  جنوری‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان بینکس ایسوسی ایشن (پی بی اے) نے ملکی بینکاری شعبے کی شاندار کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے خصوصی طور پر ان سات پاکستانی بینکوں کو مبارکباد دی ہے جنہیں ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلیجنس نے سال 2025 کے لیے ایشیا پیسیفک کے ٹاپ 15 بینکوں میں شامل کیا ہے۔ پی بی اے کے مطابق یہ اعزاز نہ صرف ادارہ جاتی کامیابی کی علامت ہے بلکہ اس کا فائدہ براہِ راست عام سرمایہ کاروں تک پہنچ رہا ہے۔ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ان بینکوں کی مضبوط منافع بخش کارکردگی کے باعث پیدا ہونے والی قدر پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ڈیڑھ ارب سے زائد حصص رکھنے والے چھوٹے سرمایہ کاروں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو رہی ہے، جو درحقیقت اس کامیابی کے اصل مستحق ہیں۔پی بی اے کے چیف ایگزیکٹو اور سیکریٹری جنرل منیر کمال نے اپنے بیان میں کہا کہ حصص میں وسیع پیمانے پر اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بینکاری شعبے کی ترقی کے فوائد کیپیٹل مارکیٹ کی نچلی سطح تک منتقل ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ (یو بی ایل) سب سے زیادہ مارکیٹ کیپیٹلائزیشن کے ساتھ صنعت میں نمایاں مقام رکھتا ہے اور یہ مثال قائم کر رہا ہے کہ بڑے بینک بھی پائیدار انداز میں غیر معمولی منافع پیدا کر سکتے ہیں۔درجہ بندی میں سرکاری شعبے کے بینکوں کی قابلِ ذکر کارکردگی کو مؤثر حکمرانی اور مضبوط انتظامی نگرانی کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔ بینک آف پنجاب ایشیا پیسیفک خطے میں مجموعی سرمایہ کاری کے لحاظ سے سرفہرست رہا، جبکہ نیشنل بینک آف پاکستان اور بینک آف خیبر بھی نمایاں پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ پی بی اے کے مطابق یہ کامیابی حکومت اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مؤثر پالیسی سازی اور سخت نگرانی کا مظہر ہے۔رپورٹ میں بینک مکر مہ کی غیر معمولی بحالی اور عسکری بینک کے تیزی سے ابھار کو بھی اجاگر کیا گیا، جنہوں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بڑے پیمانے پر بحال کیا۔ اسلامی بینکاری کے شعبے میں فیصل بینک نے منافع کے نئے معیارات قائم کیے، جو شریعت کے مطابق بینکاری نظام کی مضبوطی کو ظاہر کرتے ہیں۔منیر کمال نے کہا کہ یہ شاذ و نادر ہی ہوتا ہے کہ بینک اتنی وسیع سطح پر سرمایہ کاروں کے لیے قدر پیدا کریں، اور اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یہ کامیابی حقیقی معیشت پر مثبت اثرات کے ساتھ حاصل ہوئی ہے۔

پی بی اے کے مطابق بینکاری شعبہ ملکی معیشت کی بحالی میں بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔ مالی سال 2025 کے دوران نجی شعبے کو دیے جانے والے قرضوں میں 1.1 کھرب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو مالی سال 2024 میں 470 ارب روپے کے مقابلے میں نمایاں بہتری ہے۔ یہ رجحان ورکنگ کیپیٹل اور طویل مدتی سرمایہ کاری دونوں میں مضبوط طلب کی عکاسی کرتا ہے۔یہ ترقی ہمہ گیر نوعیت کی رہی۔ ایس ایم ای قرض لینے والوں کی تعداد میں 57 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ دو برسوں کے دوران اس شعبے کو فراہم کی جانے والی رقوم دگنی ہو گئیں۔ زرعی شعبے میں بھی تاریخی بہتری دیکھی گئی، جہاں قرض لینے والوں کی تعداد 27 لاکھ سے بڑھ کر تقریباً 30 لاکھ ہو گئی، اور ترسیلات 2.58 کھرب روپے کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئیں۔ پی بی اے نے اس پیش رفت کا کریڈٹ جدید ڈیجیٹل سہولیات، جیسے زرخیز-ای، کو دیا۔ایسوسی ایشن نے بعض میڈیا رپورٹس میں مالی سال 2026 کے ابتدائی نصف میں نجی شعبے کے قرضوں سے متعلق پیش کیے گئے اعداد و شمار کو غلط قرار دیا۔ پی بی اے کے مطابق دسمبر تک نجی شعبے کے قرضوں میں 654 ارب روپے کا اضافہ ہوا، جبکہ مجموعی پورٹ فولیو میں 6.75 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ پیش رفت حکومتی قرضوں کے دباؤ کے باوجود ممکن ہوئی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بینکاری شعبہ بدستور معیشت کی مضبوط بنیاد بنا ہوا ہے۔آخر میں پی بی اے نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ مستقبل میں بھی عوام کے لیے قدر پیدا کرتا رہے گا، چھوٹے سرمایہ کاروں کو مستحکم منافع فراہم کرے گا اور مالی شمولیت کے فروغ کے ذریعے ترقی کے ثمرات ملک کے ہر طبقے تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…