اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) ملک کے مختلف حصوں میں آٹے کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے باعث پہلے سے مہنگائی کا شکار عوام کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔ذرائع کے مطابق گزشتہ ہفتے ملتان میں آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 100 روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد شہر میں 15 کلو آٹے کا تھیلا 1450 روپے سے بڑھ کر 1550 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ فلور مل سے کچا آٹا 120 روپے فی کلو مل رہا ہے جبکہ چکی سے تیار آٹا 110 روپے فی کلو میں دستیاب ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ سرکاری آٹا مارکیٹ میں موجود نہیں، جس کی وجہ سے نرخ مسلسل بڑھ رہے ہیں۔خیبر پختونخوا میں بھی آٹے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
صوبائی دارالحکومت پشاور میں 20 کلو باریک آٹے کا تھیلا 3 ہزار 100 روپے تک پہنچ گیا ہے، جبکہ مکس فلور 2 ہزار 950 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 300 سے 400 روپے تک اضافہ ہوا ہے، اور آٹا ڈیلرز نے آئندہ دنوں میں مزید مہنگائی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بھی آٹے کی قیمتیں مسلسل اوپر جا رہی ہیں۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران 50 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں ایک ہزار روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ اس وقت 50 کلو آٹے کا تھیلا 6 ہزار 500 روپے میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ دیگر پیکنگز بھی مہنگی ہو چکی ہیں۔آٹا فروشوں کے مطابق گندم کی کمی آٹے کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ ہے۔
دوسری جانب شہریوں کا کہنا ہے کہ تقریباً ہر دس دن بعد آٹے کے نرخ بڑھ جاتے ہیں، جس سے گھریلو اخراجات پورے کرنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔ادھر پنجاب میں صورتحال نسبتاً بہتر بتائی جا رہی ہے، جہاں 10 کلو آٹے کا تھیلا 905 روپے جبکہ 20 کلو آٹے کا تھیلا 1810 روپے میں دستیاب ہے۔ تاہم عوام کا مطالبہ ہے کہ حکومت آٹے کی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات کرے۔















































