ہفتہ‬‮ ، 10 جنوری‬‮ 2026 

بھارتی اسٹاک مارکیٹ کریش کرگئی

datetime 9  جنوری‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) بھارتی حصص بازار شدید دباؤ کا شکار ہو گیا ہے اور جمعرات کو مندی کا یہ سلسلہ لگاتار چوتھے روز بھی جاری رہا۔ اس دوران سرمایہ کاروں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا اور اندازوں کے مطابق تقریباً 9 لاکھ کروڑ روپے کی مالیت ختم ہو گئی۔چار کاروباری دنوں میں بی ایس ای سینسیکس مجموعی طور پر 1,581 پوائنٹس نیچے آ چکا ہے، جبکہ نفٹی میں بھی تقریباً 1.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

تازہ کاروباری سیشن کے اختتام پر سینسیکس 780.18 پوائنٹس یا 0.92 فیصد گر کر 84,180.96 پوائنٹس پر بند ہوا، جبکہ نفٹی 50 میں 263.90 پوائنٹس یعنی ایک فیصد کی کمی کے بعد انڈیکس 25,876.85 کی سطح پر آ گیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مسلسل فروخت کے رجحان نے مارکیٹ کی مجموعی مالیت کو شدید متاثر کیا ہے۔ بی ایس ای میں شامل کمپنیوں کی کل مارکیٹ کیپٹلائزیشن صرف چار دنوں کے دوران 9.19 لاکھ کروڑ روپے کم ہو کر 472 لاکھ کروڑ روپے تک محدود ہو گئی ہے۔ یہ صورتحال اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ سرمایہ کار اس وقت شدید غیر یقینی اور خوف کی کیفیت میں مبتلا ہیں۔ماہرین کے مطابق مندی کی اہم وجوہات میں عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سخت تجارتی اقدامات کے اشارے اور کمپنیوں کے غیر یکساں مالی نتائج شامل ہیں۔

بالخصوص روس کے خلاف ممکنہ نئی پابندیوں کی خبریں سرمایہ کاروں کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک دو طرفہ امریکی بل کی حمایت کے اشارے نے بھی مارکیٹ میں بے چینی کو بڑھا دیا ہے، جس کے تحت روس سے درآمدات پر 500 فیصد تک ٹیرف عائد کیے جانے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ان ممالک پر دباؤ ڈالنا ہے جو اب بھی کم قیمت روسی تیل خرید رہے ہیں، جن میں بھارت، چین اور برازیل نمایاں ہیں۔اگرچہ یہ مجوزہ بل تاحال منظور نہیں ہوا، تاہم امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کے مطابق اسے آئندہ ہفتے ووٹنگ کے لیے پیش کیا جا سکتا ہے۔ اسی خدشے کے باعث بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں دباؤ برقرار ہے، کیونکہ روسی تیل پر انحصار کرنے والی بھارتی معیشت اس اقدام سے متاثر ہو سکتی ہے۔ موجودہ صورتحال میں سرمایہ کار خطرہ مول لینے سے گریز کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں فروخت کا رجحان مسلسل جاری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پرسی پولس


شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…