جمعرات‬‮ ، 19 مارچ‬‮ 2026 

بھارتی اسٹاک مارکیٹ کریش کرگئی

datetime 9  جنوری‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) بھارتی حصص بازار شدید دباؤ کا شکار ہو گیا ہے اور جمعرات کو مندی کا یہ سلسلہ لگاتار چوتھے روز بھی جاری رہا۔ اس دوران سرمایہ کاروں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا اور اندازوں کے مطابق تقریباً 9 لاکھ کروڑ روپے کی مالیت ختم ہو گئی۔چار کاروباری دنوں میں بی ایس ای سینسیکس مجموعی طور پر 1,581 پوائنٹس نیچے آ چکا ہے، جبکہ نفٹی میں بھی تقریباً 1.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

تازہ کاروباری سیشن کے اختتام پر سینسیکس 780.18 پوائنٹس یا 0.92 فیصد گر کر 84,180.96 پوائنٹس پر بند ہوا، جبکہ نفٹی 50 میں 263.90 پوائنٹس یعنی ایک فیصد کی کمی کے بعد انڈیکس 25,876.85 کی سطح پر آ گیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مسلسل فروخت کے رجحان نے مارکیٹ کی مجموعی مالیت کو شدید متاثر کیا ہے۔ بی ایس ای میں شامل کمپنیوں کی کل مارکیٹ کیپٹلائزیشن صرف چار دنوں کے دوران 9.19 لاکھ کروڑ روپے کم ہو کر 472 لاکھ کروڑ روپے تک محدود ہو گئی ہے۔ یہ صورتحال اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ سرمایہ کار اس وقت شدید غیر یقینی اور خوف کی کیفیت میں مبتلا ہیں۔ماہرین کے مطابق مندی کی اہم وجوہات میں عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سخت تجارتی اقدامات کے اشارے اور کمپنیوں کے غیر یکساں مالی نتائج شامل ہیں۔

بالخصوص روس کے خلاف ممکنہ نئی پابندیوں کی خبریں سرمایہ کاروں کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک دو طرفہ امریکی بل کی حمایت کے اشارے نے بھی مارکیٹ میں بے چینی کو بڑھا دیا ہے، جس کے تحت روس سے درآمدات پر 500 فیصد تک ٹیرف عائد کیے جانے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ان ممالک پر دباؤ ڈالنا ہے جو اب بھی کم قیمت روسی تیل خرید رہے ہیں، جن میں بھارت، چین اور برازیل نمایاں ہیں۔اگرچہ یہ مجوزہ بل تاحال منظور نہیں ہوا، تاہم امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کے مطابق اسے آئندہ ہفتے ووٹنگ کے لیے پیش کیا جا سکتا ہے۔ اسی خدشے کے باعث بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں دباؤ برقرار ہے، کیونکہ روسی تیل پر انحصار کرنے والی بھارتی معیشت اس اقدام سے متاثر ہو سکتی ہے۔ موجودہ صورتحال میں سرمایہ کار خطرہ مول لینے سے گریز کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں فروخت کا رجحان مسلسل جاری ہے۔



کالم



مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)


برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…