اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ملک کے مختلف شہروں میں آٹے کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے عوام پر مہنگائی کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔
حیدرآباد میں آٹے کی قیمت فی کلو 10 سے 20 روپے تک بڑھ گئی ہے، جس کے بعد 20 کلو آٹے کا تھیلا 2400 روپے سے بڑھ کر 2600 روپے تک جا پہنچا۔ چکی مالکان کے مطابق 100 کلو گندم کی بوری کی قیمت میں 1300 سے 1500 روپے تک اضافہ ہوا ہے۔ اسی دوران پشاور میں بھی ایک ہفتے کے دوران 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 200 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
فلور ملز ایسوسی ایشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکاری گندم کی بروقت فراہمی نہ ہونے کی وجہ سے پنجاب میں آٹے کی قلت برقرار ہے، جبکہ جنوبی اور وسطی پنجاب میں صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق لاہور تک گندم کی فراہمی محدود ہے، اور دیگر شہروں میں 10 کلو آٹے کے تھیلے دستیاب نہیں ہیں۔ فلور ملز مالکان نے بتایا کہ گندم کی قیمت بڑھنے کی وجہ سے وہ کم قیمت پر آٹا فروخت نہیں کر سکتے، کیونکہ 4600 روپے فی من کے حساب سے خریدی گئی گندم پر سستا آٹا فراہم کرنا ممکن نہیں۔
فلور ملز ایسوسی ایشن کے گروپ لیڈر عاصم رضا نے کہا کہ محکمہ خوراک کی فراہم کردہ گندم کے مطابق ہی آٹا مارکیٹ میں سپلائی کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گندم کی قلت موجود ہے اور اس کی قیمت بڑھ چکی ہے۔ پچھلے سال کے مقابلے میں اس سال گندم کا اجرا بہت کم ہے، جس کے باعث آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
دوسری جانب محکمہ خوراک کے ترجمان نے صورتحال کو کنٹرول میں بتایا اور کہا کہ صوبے میں گندم کے ذخائر 8 لاکھ میٹرک ٹن ہیں، اور کسی قسم کی قلت موجود نہیں۔ ترجمان کے مطابق پنجاب بھر میں آٹے کی قیمت یکساں ہے، 10 کلو آٹے کا تھیلا 905 روپے جبکہ 20 کلو آٹے کا تھیلا 1810 روپے میں دستیاب ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت آٹے کی قیمتیں بڑھنے نہیں دے گی اور موجودہ ریٹ برقرار رہے گا۔















































