منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

بینک آف پنجاب کی طرف سے اربوں روپے کی زائد ادائیگیوں کے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی

datetime 7  جنوری‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)بینک آف پنجاب سے متعلق سوشل میڈیا پر اربوں روپے کی مبینہ زائد ادائیگیوں اور سائبر حملے کے دعوؤں کی اصل حقیقت واضح ہو گئی ہے۔بینک کی جانب سے جاری وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ معمول کی نگرانی کے دوران کریڈٹ کارڈز کے کچھ غیر معمولی لین دین کی نشاندہی ہوئی، جس کے فوراً بعد داخلی سطح پر تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا۔ جائزے میں یہ بات سامنے آئی کہ یہ لین دین کسی سائبر حملے کا نتیجہ نہیں تھے بلکہ کریڈٹ کارڈ سسٹم میں پیش آنے والی ایک عارضی تکنیکی خرابی کی وجہ سے ہوئے۔

بینک کے مطابق اس تکنیکی مسئلے کے باعث کریڈٹ کارڈ رکھنے والے صارفین کے ایک محدود گروپ کو غیر مجاز لین دین کی سہولت میسر آ گئی تھی۔ تاہم، متاثرہ صارفین کا تعلق کسی مخصوص سرکاری اسکیم یا پروگرام، بشمول “آسان کاروبار کارڈ”، سے نہیں تھا بلکہ یہ مسئلہ عمومی طور پر کریڈٹ کارڈ ہولڈرز کے ایک خاص حصے تک محدود رہا۔وضاحت میں مزید کہا گیا ہے کہ سسٹم میں پائی جانے والی اس خامی کو مکمل طور پر درست کر لیا گیا ہے اور صورتحال اب مکمل طور پر بینک کے کنٹرول میں ہے۔

اس کے ساتھ ہی بینک نے اس بات کی بھی تردید کی ہے کہ اس معاملے میں اربوں روپے شامل تھے، اور کہا ہے کہ اس حوالے سے گردش کرنے والے اعداد و شمار مبالغہ آرائی اور قیاس آرائی پر مبنی ہیں۔بینک آف پنجاب نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ جمعہ، 2 جنوری 2026 کو کی گئی سسٹم اپ ڈیٹ کا اس کریڈٹ کارڈ مسئلے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بینک کے طے شدہ طریقہ کار کے مطابق زائد استعمال شدہ رقوم کی وصولی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق بیشتر صارفین نے خود ہی بینک سے رابطہ کر کے اضافی رقم کی واپسی کا عمل شروع کر دیا ہے، جبکہ تمام ضروری اصلاحی اقدامات بھی جاری ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…