اسلام آباد (نیوز ڈیسک)بینک آف پنجاب سے متعلق سوشل میڈیا پر اربوں روپے کی مبینہ زائد ادائیگیوں اور سائبر حملے کے دعوؤں کی اصل حقیقت واضح ہو گئی ہے۔بینک کی جانب سے جاری وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ معمول کی نگرانی کے دوران کریڈٹ کارڈز کے کچھ غیر معمولی لین دین کی نشاندہی ہوئی، جس کے فوراً بعد داخلی سطح پر تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا۔ جائزے میں یہ بات سامنے آئی کہ یہ لین دین کسی سائبر حملے کا نتیجہ نہیں تھے بلکہ کریڈٹ کارڈ سسٹم میں پیش آنے والی ایک عارضی تکنیکی خرابی کی وجہ سے ہوئے۔
بینک کے مطابق اس تکنیکی مسئلے کے باعث کریڈٹ کارڈ رکھنے والے صارفین کے ایک محدود گروپ کو غیر مجاز لین دین کی سہولت میسر آ گئی تھی۔ تاہم، متاثرہ صارفین کا تعلق کسی مخصوص سرکاری اسکیم یا پروگرام، بشمول “آسان کاروبار کارڈ”، سے نہیں تھا بلکہ یہ مسئلہ عمومی طور پر کریڈٹ کارڈ ہولڈرز کے ایک خاص حصے تک محدود رہا۔وضاحت میں مزید کہا گیا ہے کہ سسٹم میں پائی جانے والی اس خامی کو مکمل طور پر درست کر لیا گیا ہے اور صورتحال اب مکمل طور پر بینک کے کنٹرول میں ہے۔
اس کے ساتھ ہی بینک نے اس بات کی بھی تردید کی ہے کہ اس معاملے میں اربوں روپے شامل تھے، اور کہا ہے کہ اس حوالے سے گردش کرنے والے اعداد و شمار مبالغہ آرائی اور قیاس آرائی پر مبنی ہیں۔بینک آف پنجاب نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ جمعہ، 2 جنوری 2026 کو کی گئی سسٹم اپ ڈیٹ کا اس کریڈٹ کارڈ مسئلے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بینک کے طے شدہ طریقہ کار کے مطابق زائد استعمال شدہ رقوم کی وصولی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق بیشتر صارفین نے خود ہی بینک سے رابطہ کر کے اضافی رقم کی واپسی کا عمل شروع کر دیا ہے، جبکہ تمام ضروری اصلاحی اقدامات بھی جاری ہیں۔















































