اسلام آباد (نیوز ڈیسک) تازہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے بیرونی قرضوں میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی ہے، تاہم مقامی قرضوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر ملک پر قرضوں، سودی ادائیگیوں اور سرکاری ضمانتوں کا بوجھ بڑھ کر 80 ہزار 681 ارب روپے تک جا پہنچا ہے۔
اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران اندرونی قرضوں میں 12.7 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 48 ہزار 584 ارب روپے سے بڑھ کر 54 ہزار 619 ارب روپے ہو گئے۔ ماہانہ بنیاد پر بھی مقامی قرضوں میں 1.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے نتیجے میں یہ 53 ہزار 966 ارب روپے سے بڑھ کر نومبر کے اختتام پر 54 ہزار 619 ارب روپے کی سطح پر پہنچ گئے۔
دوسری جانب بیرونی قرضوں کا جائزہ لیا جائے تو سالانہ بنیاد پر ان میں 5.3 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 21 ہزار 780 ارب روپے سے بڑھ کر نومبر تک 22 ہزار 925 ارب روپے ہو گئے۔ تاہم ماہانہ بنیاد پر بیرونی قرضوں میں 0.3 فیصد کمی دیکھنے میں آئی، جس کے باعث یہ 23 ہزار ارب روپے سے گھٹ کر 22 ہزار 925 ارب روپے رہ گئے۔
اعداد و شمار کے مطابق مجموعی سرکاری قرضے ایک سال میں 10.2 فیصد بڑھ کر 70 ہزار 365 ارب روپے سے 77 ہزار 543 ارب روپے تک جا پہنچے۔ ماہانہ بنیاد پر مجموعی قرضوں میں 0.7 فیصد اضافہ ہوا، جس سے یہ 76 ہزار 970 ارب روپے سے بڑھ کر 77 ہزار 543 ارب روپے ہو گئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومتی قرضوں پر سود کی مد میں ادائیگیاں ایک ہزار 474 ارب روپے تک پہنچ چکی ہیں، جبکہ سرکاری ضمانتوں کا حجم ایک ہزار 664 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ان تمام عوامل کو شامل کیا جائے تو پاکستان پر مجموعی مالی بوجھ 80 ہزار 681 ارب روپے بنتا ہے، جو ملکی معیشت پر بڑھتے ہوئے قرضوں کے دباؤ کو نمایاں کرتا ہے۔














































