پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

پی آئی اے بورڈ کا بڑا دعویٰ، قومی ایئرلائن 21 سال بعد بالآخر منافع بخش ادارہ بن گیا

datetime 9  اپریل‬‮  2025 |

اسلام آباد(این این آئی)پاکستان انٹرنیشنل ایئر (پی آئی اے) 21 سال بعد شدید مالی بحران سے نکل گیا اور بورڈ نے مالیاتی رپورٹ کی منظوری دے دی، جس کے مطابق قومی ایئرلائن کو 26 ارب سے زائد کا منافع ہوا۔وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کو منافع بخش بنانے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ الحمدللہ، قوم کے لیے ایک اور خوشخبری!

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کو 20 برس میں پہلی مرتبہ منافع ہوا، جو کئی دہائیوں کے خسارے کے بعد ایک بڑی تبدیلی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ خوش آئند ہے کہ مستقبل تابناک ہے، پی آئی اے کو منافع بخش بنانے پر وزیر اعظم نے وفاقی وزیرخواجہ آصف اور ان کی ٹیم کی تعریف کی اور کہا کہ وزیرِ ہوابازی خواجہ آصف کی قیادت میں ٹیم کی کوششیں قابل ستائش ہیں۔پی آئی اے کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے پی آئی اے کے سال 2024 کے سالانہ نتائج کی منظوری دے دی، جس کے مطابق پی آئی اے نے 21 سال کی طویل مدت کے بعد خالص منافع حاصل کرلیا۔پی آئی اے کے سال 2024 کے نتائج کے مطابق پی ائی اے نے 9.3 ارب روپے آپریشنل منافع جبکہ 26.2 ارب روپے خالص یا نیٹ منافع کمایا، آپریٹنگ مارجن 12 فیصد سے زیادہ رہا جو دنیا کی کسی بھی بہترین ائیرلائن کی پرفارمنس کے ہم پلہ ہے۔

پی آئی اے نے آخری منافع سال 2003 میں حاصل کیا تھا جس کے بعد دو دہائیوں تک پی آئی اے خسارے سے دوچار رہی تاہم حکومت پاکستان کی سرپرستی سے پی آئی اے میں جامع اصلاحات کیے گئے۔قومی ایئرلائن میں اصلاحات کے دوران پی آئی اے کی افرادی قوت اور اخراجات میں واضح کمی، منافع بخش روٹس میں استحکام، نقصان دہ روٹس کا خاتمہ اور بیلنس شیٹ ری اسٹرکچرنگ کی گئی۔مزید بتایا گیا کہ پی آئی اے کے واپس منافع بخش ادارہ بننے سے نہ صرف اس کی ساکھ میں اضافہ ہوگا بلکہ یہ ملکی معیشت کے لیے بھی مفید ثابت ہوگا۔وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے اس امر کا باضابطہ اعلان کیا گیا اور اس اعلیٰ مالیاتی کارکردگی کو نجکاری کے لیے بہت اہم قرار دیا۔دوسری جانب

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…