جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

آئی ایم ایف کے مطالبے پر درآمدی ڈیوٹیز کم کرنے کا فیصلہ، گاڑیاں سستی ہو جائیں گی

datetime 20  مارچ‬‮  2025 |

کراچی(این این آئی)حکومت نے بیرونی مسابقت کیلیے معیشت کو مکمل طور پر کھولنے کا آئی ایم ایف کا بڑا مطالبہ تسلیم کر لیا، اس کے تحت آئندہ 5 برس میں اوسط درآمدی ٹیرف ایک تہائی کم کرکے محض 7.1 فیصد تک لایا جائیگا۔

ذرائع کے مطابق معیشت کی لبرلائزیشن کے شعبوں میں معدنیات اور آٹو سیکٹر سرفہرست ہوں گے، ان میں آٹو سیکٹر کو سب سے زیادہ تحفظ حاصل ہے، جبکہ شورش زدہ بلوچستان معدنیات سے مالامال ہے۔اس نئی مفاہمت کیساتھ پاکستان اور آئی ایم ایف سٹاف لیول معاہدہ کے قریب پہنچ گئے، جوکہ ایک ارب ڈالر کی قسط کی ایگزیکٹیو بورڈ سے منظوری کی لازمی شرط ہے۔تاہم اوسط ٹیرف میں ایک تہائی کمی سے محصولات میں 278 ارب روپے کی کمی واقع ہو گی جس کی تلافی ٹریڈ لبرلائزیشن کے نتیجے میں معاشی سرگرمیوں میں اضافے سے متوقع ہے۔ذرائع نے بتایا کہ حکومت نے اضافی کسٹمز ڈیوٹیز مکمل ختم کرنے، ریگولیٹری ڈیوٹیز میں 75 فیصد کمی اور کسٹمز ایکٹ کے پانچویں شیڈول کے تحت رعائتیں واپس لینے پر اتفاق کیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ پانچ برسوں میں مجموعی اوسط ٹیرف موجودہ 10.6فیصد سے کم کرکے7.1 فیصد پر لائے جائیں گے، جس کا آغاز رواں سال جولائی سے ہوگا۔مجموعی ٹیرفس میں 33 فیصد معیشت کو بیرونی مسابقت کیلئے مکمل طور پر کھول دینگے۔

پاکستان کا آئی ایم ایف کیساتھ ٹریڈ لبرلائزیشن پر اتفاق ایسے وقت ہوا ہے جب امریکہ سمیت بیشتر ممالک اپنے سرحدیں غیر ملکی کمپنیوں کیلئے بند کر رہے ہیں۔ٹیرف کے تحفظ میں پروان چڑھنے والی پاکستانی کمپنیاں بیرونی مسابقت کی اہل بھی نہیں، جس کی قیمت صارفین کو ادا کرنا پڑتی ہے۔ جنوبی ایشیا میں مجموعی اوسط ٹیرف 5.3 فیصد جبکہ ایشیا میں7.5 فیصد ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف کیساتھ اس مفاہمت پر عملدرآمد رواں سال جولائی میں تشکیل پانے والی نئی قومی ٹیرف پالیسی کے ذریعے جبکہ نئی آٹو انڈسٹری ڈویلپمنٹ اور ایکسپورٹ پالیسی پر جولائی 2026 سے ہوگا۔ ذرائع نے بتایا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ جون کے آخر تک وفاقی کابینہ سے نئی ٹیرف پالیسی کی منظوری حاصل کرلے گا۔ٹیرف میں کمی پر عملدرآمد 2025-26 کے بجٹ میں ہوگا جسے جون میں پارلیمنٹ میں پیش کیا جانا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کو یہ یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ ماسوائے انتہائی ضرورت کہ کوئی نئی ریگولیٹری ڈیوٹی مستقبل میں متعارف نہیں کرائی جائیگی، اگر ایسا ہوا تو اس کی میعاد مقرر کی جائیگی۔اضافی کسٹمز ڈیوٹیوں کو کسٹمز ڈیوٹیز یا ریگولیٹری ڈیوٹیز میں ضم کر دیا جائے گا۔

ذرائع نے بتایا کہ آٹو سیکٹر پر عائد ٹیرف میں بڑی تبدیلیوں سے گاڑیاں سستی ہو جائینگی،جس میں حکومت 2030 تک آٹو انڈسٹری کیلئے غیر ضروری تحفظ ختم کرنے کیلئے پرعزم ہے، حکومت نے کسٹم ڈیوٹی سلیبس کو بھی معقول بنانے کی یقین دہائی کرائی ہے، آٹو سیکٹر کیلئے اوسط ٹیرف 5.6 فیصد تک لایا جائیگا۔ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے اس بات کی بھی یقین دہانی مانگی ہے کہ حکومت 2027 آئی ایم ایف پروگرام ختم ہونے کے بعد ٹیرف پروگرام پانچ سال تک جاری اور اسے ڈی ریل نہیں کرے گی۔منرل سیکٹر پر غیر ٹیرف رکاوٹیں بھی دور کی جائیں گی۔

پاکستانی حکام کو یقین ہے کہ آزاد تجارتی معاہدے ریگولیٹری ڈیوٹیز کی زیادہ شرح کی بڑی وجہ ہیں، حکومت ان ڈیوٹیز کو چین سے سامان کی درآمد روکنے کیلئے استعمال کرتی ہے۔ڈیوٹیز میں کمی کی تلافی درآمد اور تجارتی سرگرمیوں میں متوقع اضافے سے حاصل مقامی ٹیکسوں پوری کی جائے گی، جوکہ وزارت تجارت کی اندازے کے مطابق 14 کھرب روپے تک پہنچ سکتے ہیں۔ حکام کو یقین ہے کہ ٹریڈ لبرلائزیشن سے 2030 تک برآمدات47 ارب ڈالر تک بڑھائی اور معیشت 4.6 فیصد کی شرح سے نمو حاصل کر سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…