اسلام آباد (نیوز ڈیسک)سونا بیچ کر پراپرٹی خریدنے والوں کے لیے نئی شرط، ایف بی آر کا اہم فیصلہاسلام آباد: سونے کی فروخت کے بعد پراپرٹی خریدنے کے حوالے سے ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے، جس میں ایف بی آر نے ایک نئی شرط عائد کر دی ہے۔تفصیلات کے مطابق، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس بلال اظہر کیانی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی نے تجویز پیش کی کہ ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں کیش، سونا اور اسٹاکس کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔
ایف بی آر کی جانب سے وضاحت کی گئی کہ اگر کوئی فرد سونا بیچ کر جائیداد خریدتا ہے تو اسے خریداری کے وقت سونا فروخت کرنے کا ثبوت پیش کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ، کمیٹی نے یہ بھی تجویز دی کہ اگر کوئی شخص سونے کے بدلے پراپرٹی حاصل کرتا ہے تو اس کے لیے بھی قانون میں گنجائش پیدا کی جانی چاہیے۔نمائندہ آباد، حسن بخشی نے اس موقع پر کہا کہ عوام کی بڑی رقم بینکوں میں موجود ہے، اور اگر شرح سود کم ہوئی تو یہ سرمایہ مارکیٹ میں آئے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی سطح پر پراپرٹی میں سرمایہ کاری کو آسان بنانے کی ضرورت ہے، ورنہ سرمایہ ملک سے باہر منتقل ہو سکتا ہے۔ پہلے دبئی سرمایہ کاری کے لیے مقبول تھا، اور اب سعودی عرب بھی اس فہرست میں شامل ہو چکا ہے۔
بلال اظہر کیانی نے گفتگو کے دوران وضاحت کی کہ پہلے نان فائلرز کو ایک کروڑ روپے تک کی پراپرٹی خریدنے کی اجازت دی گئی تھی، تاہم آباد (ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز) نے مطالبہ کیا ہے کہ نان فائلرز کو ڈھائی کروڑ روپے تک کی پراپرٹی خریدنے کی اجازت دی جائے۔ مزید برآں، آباد نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ پہلی مرتبہ پراپرٹی خریدنے والوں کے لیے نان فائلرز کو 5 کروڑ روپے تک کا ریلیف دیا جائے۔ممبر آئی آر پالیسی نے اس موقع پر کہا کہ حکومت کا مقصد نان فائلرز کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنا ہے۔
بلال اظہر کیانی نے اس تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ نان فائلرز کو بھی مکان خریدنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ممبر آئی آر پالیسی کا مزید کہنا تھا کہ ٹیکس کے حوالے سے تمام شہریوں کے لیے یکساں نظام ہونا چاہیے اور کسی کو خصوصی رعایت نہیں دی جانی چاہیے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ امیر طبقے کو بھی ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ 80 لاکھ روپے کی مالیت کا مکان ایک عام سطح کا گھر ہوگا، جبکہ جو شخص ڈھائی کروڑ روپے کی جائیداد خریدے گا، اسے اپنی آمدنی کا ثبوت فراہم کرنا ہوگا۔