بدھ‬‮ ، 07 جنوری‬‮ 2026 

فعال ٹیکس گزار نہ ہونے کی صورت میں کاروبار سیل کیا جائے گا، چیئرمین ایف بی آر

datetime 24  دسمبر‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی ریونیو بورڈ (ایف بی آر) کے چیئرمین راشد محمود لنگڑیال نے کہا ہے کہ فعال ٹیکس گزار نہ ہونے کی صورت میں کاروبار سیل کیا جائے گا اور منقولہ جائیداد قبضے میں لی جائے گی۔سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرصدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس ہوا۔ کمیٹی کو ٹیکس قوانین ترمیمی بل پر بریفنگ دی گئی۔سینیٹ قائمہ کمیٹی خزانہ میں ٹیکس قوانین ترمیمی بل پر بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر نے شرکا کو بتایا کہ ٹیکس قوانین ترمیمی بل میں کوئی نیا ٹیکس نہیں ہے، صرف نان فائلنگ اور انڈر فائلنگ کو ٹھیک کررہے ہیں، انکم ڈیکلیئریشن اور اخراجات میں فرق بہت زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ زیادہ تر کاروبار غیر رجسٹرڈ ہیں یا کم ٹیکس ادا کر تے ہیں، سیلز ٹیکس رجسٹریشن میں ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھایا گیا ہے، فعال ٹیکس گزار نہ ہونے کی صورت میں کاروبار سیل کیا جائے گا اور منقولہ جائیداد قبضے میں لی جائے گی۔چیئرمین ایف بی آرنے کہا کہ نئی تجاویز سے 95 فیصد لوگ متاثر نہیں ہوں گے، ترامیم سے ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح پانچ سال میں 18 فیصد تک جائے گی، 62 لاکھ افراد ٹیکس گوشوارے جمع کراتے ہیں، 42 لاکھ افراد ایکٹیو ٹیکس پیئرز ہیں۔سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ کاروباری افراد سیلز ٹیکس رجسٹریشن سے خوف زدہ ہیں، کاروباری افراد کو سیلز ٹیکس رجسٹریشن بارے کوئی علم نہیں ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ایف بی آر کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا، اور ادارے سے جون میں کارکردگی بارے پوچھا جائے گا جب کہ اس بل پر کاروباری افراد سے مشاورت کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ ٹیکس ادا نہیں کررہے انہیں ٹیکس نیٹ میں لارہے ہیں، ہر شخص کو معیشت میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 10.3 فیصد ہے جو آئندہ 3 سال میں 13.5 فیصد پر لے جائیں گے۔وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے واضح کیا کہ ٹیکس اتھارٹی پر اعتماد بحال کرنا ضروری ہے، ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، حکومت کا سائز کم اورایف بی آر پالیسی یونٹ کو الگ کیا جائے گا۔انہوںنے کہاکہ پاکستان کو ایک مزاحیہ ملک کے طور پر جانا جاتا ہے، ہمارے ہمسایہ ملک میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو 18.5 فیصد ہے، بطور ملک ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔



کالم



سائرس یا ذوالقرنین


میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…