اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

قطر سے 5 اضافی ایل این جی کارگوز کی خریداری ایک سال کیلئے موخر

datetime 4  دسمبر‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)حکومت پاکستان نے قطر سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے 5 اضافی کارگوز کی خریداری ایک سال کیلئے موخر کردی اور اب معاہدے کے تحت 2025 میں آنے والے کارگوز 2026 میں منگوایا جائے گا۔میڈیا سے گفتگو میں وفاقی وزیرپیٹرولیم مصدق ملک نے پیش رفت کے حوالے سے کہا کہ ملک میں ایل این جی سرپلس ہے، اس لیے قطر سے ایل این جی کے 5 اضافی کارگوز کو موخر کردیا گیا ہے، مزید 5 کارگوز بھی ایک سال کے لیے موخرکیے جانے کا امکان ہے۔

وفاقی وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ حکومتی سطح یا اسپاٹ ایل این جی کا کوئی اضافی کارگو نہیں منگوایا جارہا، قطر سے 5 اضافی ایل این جی کارگوز کو موخر کردیا اور مزید 5 کارگوز پر بات چیت ہورہی ہے جنہیں موخر کیے جانے کا امکان ہے۔انہوں نے کہا کہ بجلی کارخانے ایل این جی نہیں خرید رہے، اس لیے گیس اضافی ہو رہی ہے، درآمدی گیس مہنگی ہونے کے باعث نجی شعبہ ایل این جی نہیں خریدرہا۔مصدق ملک نے کہا کہ معاہدوں کو منسوخ کرنے کے بجائے انہیں مؤخر کرنے میں کوئی نقصان نہیں ہے، مزید 5 کارگوز بھی اگلے سال تک موخر کییجانے کا امکان ہے۔

وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ سعودی عرب کیساتھ موجودہ دور میں2 ارب 80 کروڑ ڈالرز کے ایم اویوز ہوچکے، سعودی عرب کے ساتھ 34 ایم او یوز ہوئے، ان میں 7 معاہدوں میں تبدیل ہوچکے، سعودی عرب کے ساتھ بجلی، آئی ٹی اور فوڈ سمیت دیگر شعبوں میں ایم اویوز ہوئے، پی آر ایل اور سعودی کمپنی کا 1.7 ارب ڈالر کا معاہدہ ہورہا ہے۔مصدق ملک نے کہا کہ روس سیرعایتی نرخوں پرخام تیل درآمد کرنے کی خبریں بالکل غلط ہیں، روس کیساتھ خام تیل سے متعلق کوئی ڈیل نہیں ہوئی، میں میڈیا پر آنے والی خبروں کی تردیدکرتا ہوں، جب کوئی اچھی ڈیل ملے گی تو دیکھیں گے۔ صحافی نے وزیر پیٹرولیم سے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے سے متعلق سوال کیا کہ کیا نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایڈمنسٹریشن کیساتھ یہ معاملہ اٹھایا جائے گا؟ مصدق ملک نے جواب دیا کہ جی، منصوبے پر امریکی پابندیوں سے استثنیٰ لینے کی کوشش کریں گے، ہماری کوشش تو یہ ہے کہ ہمیں آئی پی گیس منصوبے پر استشنی مل جائے، اس سے متعلق مزید بات کرنا ملکی مفاد میں نہیں ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…