اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ سے ملک کو سالانہ ایک ارب ڈالر کا نقصان

datetime 31  اگست‬‮  2024 |

اسلام آباد(این این آئی) ایک تشویشناک انکشاف ہوا ہے کہ ملک میں صرف پی او ایل مصنوعات کی اسمگلنگ کی وجہ سے ملک کو سالانہ ایک ارب ڈالر کا نقصان ہو تا ہے۔زمینی اور سمندری راستوں سے روزانہ تقریباً 10 ملین لیٹر پیٹرولیم مصنوعات پاکستان میں اسمگل کی جاتی ہیں جو پاکستان کی سالانہ کھپت کا 20 فیصد بنتی ہیں اور اس سے قومی خزانے کو تقریباً ایک ارب ڈالر کا بھاری نقصان ہوتا ہے۔

یہ تلخ حقیقت او سی اے سی (آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل) کے جمعہ کو لکھے گئے خط میں سامنے آئی ہے اور اس میں اوگرا کے چیئرمین کو مخاطب کرتے ہوئے ریگولیٹر پر زور دیا گیا ہے کہ پی او ایل مصنوعات کی اسمگلنگ میں نئے اضافے سے ملک کی تیل صنعت کو سنگین اور وجودی خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔یہ ملک میں ہائی اسپیڈ ڈیزل اور ایم ایس (موٹر اسپرٹ) کی جائز فروخت پر حکومتی محصولات کی وصولی کو بھی خطرے میں ڈال رہا ہے، خاص طور پر جب حکومت کو ملکی معاملات چلانے کے لیے ان محصولات کی اشد ضرورت ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے کریک ڈائون کے نتیجے میں چند ماہ قبل ملک میں اسمگل شدہ پیٹرولیم مصنوعات کی مقدار میں کمی ہوئی تھی لیکن بدقسمتی سے گزشتہ چند مہینوں کے دوران اسمگلنگ کی آمد دوبارہ شروع ہوگئی ہے۔او سی اے سی نے خبردار کیا کہ اگر سخت اور بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو اس میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ملک میں اسمگل شدہ پیٹرولیم مصنوعات کی بڑے پیمانے پر ا?مد قومی تیل کی سپلائی چین پر منفی اثر ڈال رہی ہے جس میں پاکستان میں وائٹ آئل پائپ لائن، ریفائنریز اور او ایم سیز کے ا?پریشنز شامل ہیں، یہ ا?مد اگر بلا روک ٹوک جاری رہی تو ملک کے گھریلو ریفائننگ شعبے کی مستقل بندش کا باعث بنے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…