اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

بجلی استعمال کرنیوالے 70 فیصد پاکستانی بل نہیں دیتے، ایشیائی بینک

datetime 21  اگست‬‮  2024 |

کراچی (این این آئی)ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے کہا ہے کہ پاکستان میں تقریباً 70 فیصد ملازمین بجلی کے بل ادا نہیں کرتے جس کی ایک وجہ ادائیگی نہ کرنے کی سکت سمیت بلنگ اور وصولی میں بے ضابطگیاں بھی ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق ”پاکستان نیشنل اربن اسسمنٹ” کے عنوان سے ایک رپورٹ میں بینک نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کا ناکافی ٹیرف نظام ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جو ڈسکوز کی مالی استحکام کو نقصان پہنچا رہا ہے، یہ خاص طور پر دیہی علاقوں میں ڈسکوز کی کارروائیوں کو متاثر کرتا ہے، جہاں 50سے 70فیصد ملازمین اپنا بل ادا نہیں کرتے، جس کی ایک وجہ ادائیگی نہ کرنے کی سکت سمیت بلنگ اور وصولی میں بے ضابطگیوں بنیادی وجوہات ہیں۔

بینک کے مطابق اسٹے آرڈرز جاری کرنے سے قانونی طریقہ کار میں ایک سال کے لیے تاخیر ہو رہی ہے اور میٹر میں چھیڑ چھاڑ اور متعلقہ آرڈیننس کے مجرموں کو محض ایک مقررہ جرمانہ ادا کرنے کی اجازت دے کرعدالتیں اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہیں۔بینک کے مطابق صرف نجکاری کے الیکٹرک ہی مالی طور پر پائیدار ہے، کمپنی کو کافی نقصان اٹھانا پڑتا تھا لیکن نجکاری کے بعد اس کی بحالی ہوئی اور اس کے بعد سے وہ اپنے ریونیو کی وصولی سے کام کر رہی ہے۔

بینک کے مطابق کافی مزاحمت کے باوجود اس نے اپنے 6,500 کلومیٹر کے وسیع سروس ایریا میں کامیابی حاصل کی ہے، جو کراچی سے آگے سندھ اور بلوچستان کے پانچ اضلاع تک جاتا ہے، جس سے بجلی کی چوری میں کمی آئی ہے۔بینک کے مطابق لوڈ شیڈنگ کے ذریعے اس نے غیر قانونی کنکشنز سے ہونے والے نقصانات پر قابو پالیا ہے جو اب بھی کچھ علاقوں میں موجود ہیں، کے الیکٹرک کی جانب سے پیش کیے گئے کامیاب ماڈل کے باوجود، سیاسی مسائل اور ٹریڈ یونینوں کی شدید مزاحمت نے دیگر ڈسکوز کی نجکاری کو روک دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…