پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

بجلی صارفین سے سالانہ 860 ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کا انکشاف

datetime 11  جولائی  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)ملک بھر کے بجلی صارفین سے سالانہ 860 ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کا انکشاف ہوا ہے ،بجلی بلوں کی تمام کیٹیگریز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہے۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی میں سیکرٹری پاور نے بجلی بلوں میں ٹیکس وصولیوں کی تفصیلات پیش کردیں۔سیکرٹری پاور ڈویژن نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بجلی بلز میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو 860 ارب روپے ٹیکس جمع کرکے دیتے ہیں، بجلی صارفین پر ٹیکسوں کا بوجھ ہے، ایف بی آر نے پاور سیکٹر کو ٹیکس کلیکشن ایجنٹس بنا دیا ہے، بجلی بلوں کی تمام کیٹگریز پر 18 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔

سیکریٹری پاور نے کہا کہ 500 روپے سے 2000 کے بل پر 10 سے 12 فیصد ٹیکس عائد ہے،25 ہزار کے بل پر 7.5فیصد ایڈوانس ٹیکس لاگو ہے، اس کے علاوہ 4 فیصد مزید سیلز ٹیکس بھی عائد ہے۔انہوں بتایا کہ ان ایکٹو کنزیومرز پر 7.5 فیصد اضافی سیلز ٹیکس وصول کیا جاتا ہےـ 1.5 فیصد بجلی ڈیوٹی پی ٹی وی فیس بھی عائد ہے۔سیکرٹری پاور نے کمیٹی کو بتایا کہ پاور سیکٹر کو سرکاری کنٹرول میں رکھنے کا پروگرام نہیں، نجکاری کمیشن پاور سیکٹر کے اداروں کی نجکاری پر کام کر رہا ہے۔سیکرٹری پاور ڈویژن نے کہا کہ کے الیکٹرک کی جب نجکاری ہوئی نقصانات 35 فیصد تھے،آج 15 فیصد پر آ چکے جبکہ ڈسکوز کے بجلی نقصانات ساڑھے 16 فیصد سے زیادہ ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…