اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

غیرملکی کمپنی پاکستان میں لائٹ ویٹ طیاروں کی مینوفیکچرنگ پر آمادہ

datetime 20  مئی‬‮  2024 |

کراچی(این این آئی) غیرملکی ایوی ایشن کمپنی پاکستان میں لائٹ ویٹ طیاروں کی مینوفیکچرنگ کے لیے آمادہ ہوگئی۔ایس آئی ایف سی (اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل)کی سرمایہ کاری کے لیے کوششیں رنگ لانے لگی، غیرملکی ایوی ایشن کمپنی پاکستان میں لائٹ ویٹ طیاروں کی مینوفیکچرنگ کے لیے آمادہ ہوگئی، اسکائی ونگز ایوی ایشن اور سیلیئر گروپ کے درمیان سرمایہ کاری اور مینوفیکچرنگ کے لیے معاہدہ طے پا گیا۔اسکائی ونگز جرمنی میں تصدیق شدہ جائرو کاپٹرز کا پہلا ڈسٹری بیوٹر اور ڈیلر بن گیا ہے، ڈیلرشپ اور تقسیم کار سرٹیفکیٹ پر جرمنی میں دستخط ہوئے، جرمن ایوی ایشن کمپنی سیلیئر اور پاکستان کی اسکائی ونگز ایوی ایشن مشترکہ طور پر آئندہ سال سے جائرو کاپٹر نامی لائٹ ویٹ طیارے کی مینوفیکچرنگ کریں گے۔

اسکائی ونگ کے سی او او عمران اسلم خان کے مطابق جائرو کاپٹرزمتفرق مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے جس میں طبی انخلا، فصل پر چھڑکاو، کلاڈ سیڈنگ، پائپ لائنوں کی سیکورٹی اور سروے، ساحلی سیکورٹی، سیکورٹی کور جبکہ کچھ ممالک میں دفاعی مقاصد کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور 2 سیٹس اور ایک اسٹریچر کے حامل جائروکاپٹر کو ممکنہ طور پر متعارف کروا رہے ہیں، پاکستان کے لیے تیار ہونے والا جائروکاپٹر 160 سے 200 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کے ساتھ اڑنے کی صلاحیت کا حامل ہوگا۔عمران اسلم خان نے کہا کہ پہلا جائروکاپٹر آرڈر پر ہے اور رواں سال اگست کے مہینے میں پاکستان پہنچ جائیگا، یہ جدید ترین فلائنگ مشینیں نجی اور سرکاری سیکٹر کو پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا پاکستان میں جائرو کاپٹروں کی تیاری کا آغاز 2025 میں اس ہدف کے ساتھ ہو گا کہ تقریبا 200 جائروکاپٹر مختلف افریقی اور ایشیائی ممالک کو برآمد کیے جائیں گے۔

اس سے ہمیں ایک معقول غیر ملکی خزانہ ملے گا اور یہ ہمیں سول ہوائی بازی کے ایک دوسرے اور اہم درجے میں لے جائے گا۔سیلیئر گروپ جرمنی کے روح رواں ہیری اسٹوڈمین کا کہنا تھا کہ مجھے پاکستان میں اسکائی ونگز کو ڈسٹری بیوٹر شپ دینے پر خوشی ہے، اگرجائرو کاپٹرز کو پاکستان میں وسیع ہوائی مقاصد کے طور پر قبول کیا جائے تو اسے ایئرایمبولینسز، تفریحی ٹورز و دفاعی مقاصد سمیت بیشتر ضروریات کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…