اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

سولر نیٹ میٹرنگ پر کسی قسم کا کوئی ٹیکس نہیں لگایا جا رہا، وزیر توانائی

datetime 16  مئی‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر پاور ڈویژن اویس لغاری نے کہا ہے کہ سولر نیٹ میٹرنگ پر کسی قسم کا کوئی ٹیکس نہیں لگایا جا رہا،آج تک جتنے بھی سولر نیٹ میٹرنگ لگے ہیں، ان کے ساتھ ہونے والے کنٹریکٹ سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ایک انٹرویو میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قابل تجدید توانائی میں اضافہ ہوا ہے، کپیسٹی پے منٹس ہمارے لئے بڑا چیلنج ہیں، کووڈ کی وجہ سے بجلی کی طلب میں کمی ہوئی، اسے تبدیل کرنے کے لئے سیکٹورل ریفارمز کی ضرورت ہے جس کا احاطہ کرلیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ تین سے چار سال کے اندر ٹرانسمیشن کے معاملات میں بہتری لائی جائے گی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم چاہیں گے کہ لوگ سولر کی طرف جائیں، اس سے سسٹم پر دبائو کم ہوگا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں میں کسٹمر کیئر سروسز کو بہتر بنانے، بجلی چوری کی روک تھام اور اس کے خلاف کریک ڈائون کرنے کے لئے بورڈز میں بھی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں تاکہ اہل افسران کی خدمات حاصل کی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ سروسز کے حوالے سے زیرو ٹالرینس ہوگی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم پرائیویٹائزیشن کی طرف بھی جا رہے ہیں تاہم اس سے پہلے کچھ کمپنیوں کے ساتھ طویل المدتی معاہدوں کے ذریعے آپریشنل مینجمنٹ کنٹریکٹ دینے پر غور کر رہے ہیں تاکہ جب صورتحال بہتر ہو تو اس میں ویلیو ایڈیشن کر کے اسے پرائیویٹائز کیا جا سکے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بجلی چوری سے ملک کا نقصان ہو رہا ہے، ہم نے تمام صوبوں کے چیف منسٹرز سے رابطہ کیا ہے، پنجاب، سندھ اور بلوچستان نے اس حوالے سے مثبت اقدام اٹھایا ہے جبکہ وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے خود مجھے فون کر کے کہا کہ میں پوری مدد کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ بجلی چوری کی روک تھام اور ریکوری پر ہمارا پورا فوکس ہے، انہیں بھی چاہئے کہ وہ احساس ذمہ داری کے ساتھ اس فرض کو نبھائیں۔ وفاقی وزیر پاور ڈویژن نے کہا کہ جب ہماری ڈیمانڈ نیچے آ چکی ہے تو ہمیں لوڈ شیڈنگ کرنے کی ضرورت نہیں لیکن ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ جہاں چوری ہو رہی ہے اس کا خمیازہ دوسرے شہری نہ بھگتیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ڈیرہ غازی خان ریجن میں چوری ہو رہی ہے تو اس کا خمیازہ اسلام آباد کا شہری بھی بھگت رہا ہے، مردان اور سندھ کا شہری بھی۔ ایک جگہ چوری ہو تو اس کا بوجھ کون کون اٹھائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایماندار بل ادا کرنے والا شہری پشاور یا کسی دوسری جگہ بجلی چوری کا بوجھ کیوں اٹھائے؟ یہ سنجیدہ معاملہ ہے، غیر ذمہ داری سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا، اس مسئلہ پر حکومت کی سپورٹ کرنا ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…