اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

آئی ایم ایف سے مذاکرات جاری: پاکستان نے ٹیکس آمدنی کا پلان پیش کردیا

datetime 15  مارچ‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان قلیل مدتی قرض پروگرام کے جائزہ مذاکرات جاری ہیں، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس آمدنی کا پلان آئی ایم ایف کوپیش کر دیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان نے آئی ایم ایف کو ایف بی آرمیں اصلاحات سے آگاہ کر دیا، ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھا کر محصولات کو بڑھایا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کے ذریعے ٹیکس نیٹ بڑھانے پر کام کیا جائیگا، تقریبا 31 لاکھ ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے پلان بنایا گیا ہے۔

بتایاگیا کہ آئی ایم ایف کو رواں مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے اقدامات سے آگاہ کیا گیا، ایف بی آرکو ری اسٹرکچر اور اسٹرکچرل تبدیلیاں لائی جارہی ہیں۔ذرائع کے مطابق رواں مالی سال 9 ہزار 415 ارب روپیکا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کی توقع ہے، جولائی تا دسمبر 2023 کے لیے آئی ایم ایف کی ٹیکس وصولی کی شرط پوری کی گئی ہے۔رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے لیے ایف بی آرکا ٹیکس ہدف 4 ہزار 425 ارب روپے تھا، جولائی تا دسمبر 2023 کے دوران 4 ہزار 468 ارب روپے ٹیکس جمع کیا۔

ذرائع کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 8 ماہ کا ٹیکس ہدف بھی حاصل کیا جاچکا ہے، اور ایف بی آر نے کوئی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم جاری نہیں کی جبکہ رواں مالی سال کوئی نئی ٹیکس چھوٹ بھی نہیں دی۔واضح رہے کہ 3 ارب ڈالر کے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ معاہدے کی تیسری قسط کے حوالے سے آئی پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں پاکستان کو ایک ارب 10 کروڑ ڈالر کی قسط جاری کی جائے گی،اس سے پہلے پاکستان کو 2 اقساط میں مجموعی طور پر ایک ارب 90 کروڑ ڈالرز مل چکے ہیں۔وزارت خزانہ سے جاری اعلامیہ میں بتایا گیا تھا کہ دوسرے جائزہ مذاکرات 18 مارچ تک جاری رہیں گے، جس کے لیے پاکستان نے تمام اہداف مکمل کر لیے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…