اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی ذخیرہ اندز اور منا فع خور سرگرم

datetime 29  فروری‬‮  2024 |

مکوآنہ (این این آئی)رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی ذخیرہ اندز اور منا فع خور سرگرام، چینی، گھی،بیسن، دودھ،دہی،گوشت،پھل اور سبزوںسمیت دیگر اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ شروع ہوگیا،چینی 150روپے کلو ہوگی،مہنگائی کا جن بے قابو، قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ کے باعث اشیائے خوردونوش عوام کی پہنچ سے دور، پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کمروں تک محدود ہو کر رہ گئے، تاجروں اور ضلعی انتظامیہ کو چاہئے کہ کم از کم جو ریٹ اس وقت ہیں رمضان المبارک میں قیمتیں کم ہونی چاہئے،

عوامی سماجی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے،فری آٹا سکیم کی بجائے پنجاب پھر میں آٹا،گھی،چینی سمیت دیگر اشیاء کی قیمتیں کم کردی جائیں، تفصیلات کے مطابق پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی مبینہ چشم پوشی کے باعث مہنگائی کا جن بے قابو ہو چکا ہے سردی کے باعث پرائس کنٹرول مجسٹریٹس قیمتیںو معیار چیک کرنے کی بجائے کمروں تک محدود ہو چکے ہیں اور افسران بالا کی جانب سے جاری کردہ ہدایت کے باوجود اوپن مارکیٹ میں فروخت ہونے والے چینی، گھی،بیسن، دودھ،دہی،گوشت، چکن اور انڈوں کی قیمتیں چیک کرنے کی بجائے سب اچھا کی رپورٹ پیش کر رہے ہیں پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی مبینہ آشیربادسے ذخیرہ اندازوں،منافع خور مافیا نے اپنی من مرضی کے ریٹ مقرر کر رکھے ہیںرمضان المبارک کی آمد سے قبل اوپن مارکیٹ میں اشیائے خوردونوش عوام کی پہنچ سے دور ہو چکی ہے چینی کی قیمت 150روپے فی کلو ہوگی ہے،دودھ اور دہی کے شہر بھر میں مختلف ریٹ مقرر ہیں اس طرح شہر اور گردونواح میں گوشت کے بھی قصاب نے اپنے ہی ریٹ مقرر کررکھے ہیں

شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے بوجھ تلے دبی عوام پہلے ہی دو وقت کی روٹی کو ترس چکے ہیں رہی سہی کسر آئے روز اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں ہونیوالے اضافہ نے نکال دی ہے اب تو آٹا چینی ڈالیں گھی بھی عوام کی پہنچ سے دور ہو چکے ہیں اب اپنے بچوں کو”کھالیں تو کیا کھالیں”شہریوں کا مزید کہنا ہے کہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس بھاری تنخواہوں اور مراعات حاصل کرنے کے باوجود مصنوعی مہنگائی کے مرتکب مافیا کے خلاف کارروائی سے گریزاں ہیں اور عملی طور پر کارروائیاں کرنے کی بجائے زبانی جمع خرچ تک محدود ہو چکے ہیں عوامی سماجی حلقوں نے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف،کمشنر ز،ڈپٹی کمشنر ز سے مطالبہ کیا ہے کہ فری آٹا سکیم کی بجائے پنجاب پھر میں آٹا،گھی،چینی سمیت دیگر اشیاء کی قیمتیں کم کردی جائیں اوراشیائے خوردونوش کی قمیتوں میں اضافہ کرنے والوں کیخلاف بلاامتیاز کریک ڈان کیا جائے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…