جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

برآمدات کے سبب ملک میں پیاز کی قیمت 240 روپے کلو تک جاپہنچی

datetime 9  جنوری‬‮  2024 |

نئی دہلی (این این آئی)بھارت کی جانب سے پیاز کی برآمدات پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد پاکستانی برآمدکنندگان صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے زرمبادلہ کمانے میں مصروف ہیںتاہم اس کے نتیجے میں صارفین متاثر ہو نے لگے کیونکہ مقامی منڈیوں میں اس کی قیمت 240 روپے فی کلو تک جاپہنچی ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارت نے 8 دسمبر 2023 سے مارچ 2024 تک برآمدات پر پابندی عائد کی، جس کے بعد مقامی مارکیٹ میں اچانک پیاز کی قیمت 120 تا 140 روپے فی کلو سے بڑھ کر 160 تا 180 روپے ہوگئی، جس کی وجہ برآمدکنندگان کی جانب سے بڑے پیمانے پر خریداری کرنا ہے، نتیجتا مہنگائی سے متاثرہ صارفین کو اس کی خریداری کے لیے بھاری قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔خوردہ فروش (ریٹیلرز)نے بتایا کہ ایران اور کابل سے آنے والی محدود پیاز بھی برآمدکنندگان خرید رہے ہیں تاکہ بڑی برآمدی طلب کو پورا کرسکیں۔

بھارت نے پیاز کی برآمدات پر پابندی عائد کردی تھی کیونکہ ملک میں پیداوار کم ہونے کے سبب گزشتہ تین مہینوں کے دوران اس کی قیمت دگنی ہوگئی تھی، تاہم اس فیصلے کے بعد بھارتی منڈیوں میں پیاز کی قیمت میں کمی کا رجحان ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق قیمتوں میں کمی ہونے کے بعد نئی دہلی پابندی ختم کر سکتا ہے، بھارت کی عالمی منڈیوں میں برآمدات بحال ہونے سے قبل پاکستانی برآمدکنندگان اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

خوردہ فروش نے بتایا کہ قیمتوں میں بڑے اضافے کے سبب صارفین ضرورت سے کم پیاز خریدنے پر مجبور ہو گئے ہیں، کیونکہ انہیں اپنے محدود بجٹ میں بجلی و گیس کے بڑھتے بل اور دیگر مہنگی سبزیاں بھی خریدنی ہیں۔فلاحی انجمن ہول سیل ویجیٹبل مارکیٹ سپر ہائی وے کے صدر حاجی شاہجہان نے بتایا کہ درمیانے درجے کی پیاز کی 40 کلو بوری کی قیمت 7 ہزار روپے جبکہ اعلی معیار کی قیمت 8 ہزار روپے فی 40 کلو ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ برآمدکنندگان اعلی معیاری کی پیاز خرید رہے ہیں کیونکہ عرب ممالک اور دبئی میں اس کی طلب زیادہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…