منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

پیاز 200 روپے کلو تک پہنچ گئی،سبزیوں کے نرخ بھی آسمان پر، شہری پریشان

datetime 11  دسمبر‬‮  2023 |

کراچی(این این آئی) سیزن کی سبزیوں کی بھرپور پیداوار کے باوجود سبزیوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں، پیاز نے ڈبل سنچری کرلی، شہریوں کا کہنا ہے کہ کم آمدن والے طبقے کے لیے دال سبزی کھانا بھی مشکل ہوگیا ہے۔ سندھ کی فصل بازار میں آنے کے باوجود ایک ہفتے کے دوران پیاز 80روپے مہنگی ہوگئی ، تین روز میں پیاز کی قیمت میں 30روپے فی کلو کا اضافہ ہوگیا ہے اور خوردہ سطح پر پیاز 200روپے کلو تک فروخت کی جارہی ہے۔

دکانداروں نے کہا کہ سبزی منڈی میں پیاز کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں اس لیے خوردہ قیمت میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔منڈی کے ذرائع نے بتایا کہ یومیہ بنیادوں پر منڈی لائی جانے والی پیاز کا 60 سے 70 فیصد حصہ گوداموں میں ذخیرہ کیا جارہا ہے جو ایکسپورٹرز خرید رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ بازار میں پیاز کی مصنوعی قلت پیدا کی جارہی ہے جس کی وجہ سے یومیہ بنیادوں پر قیمت میں اضافہ ہورہا ہے۔پیاز ہی کیا دیگر سبزیاں بھی من مانی قیمت پر فروخت کی جارہی ہیں، شہریوں کا کہنا ہے کہ گوشت اور مرغی تو درکنار اب سبزیاں پکانا بھی مشکل ہوتا جارہا ہے۔

بھنڈی، مٹر 250روپے سے 300روپے، گوبھی، لوکی اور توری 160روپے کلو، آلو 100سے 120روپے کلو، گاجریں 100روپے کلو، سیم اور گوار کی پھلی 200روپے کلو، شلجم اور چقندر 160 سے 180روپے کلو اور موسم کی دیگر سبزیاں بھی بدستور مہنگے داموں فروخت ہورہی ہیں۔شہریوں نے کہاکہ شہر بھر میں سرکاری نرخ پر کہیں عمل درآمد ہوتا نظر نہیں آرہا، گراں فروشوں کو کوئی روکنے والا نہیں۔شہریوں نے مطالبہ کیا کہ پیاز کی مقامی قیمت مستحکم ہونے تک ایکسپورٹ پر پابندی عائد کی جائے اور من مانی قیمتوں پر سبزیاں فروخت کرنے والوں کو لگام ڈالی جائے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…